داعش کے ظلم کی داستان

#image_title

داعش کے ظلم کی داستان

چوتھی قسط

اویس احمد

 

صوبہ جوزجان، ضلع درزاب

شاید آپ سب کو یاد ہو گا کہ حامد کرزئی نے کابل میں ایک معاہدہ کے تحت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعشیوں کو مشرق سے شمال کی طرف منتقل کیا ۔ منتقل کیے گئے داعش کے یہ جنگجو ایک بار صوبہ جوزجان کے ضلع درزاب میں نمودار ہوئے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ داعشی لوگوں سے زبردستی کھانا لیتے تھے اور ان کے گھروں میں رہتے تھے، اور لوگوں سے کہتے تھے کہ ہمیں اپنی لڑکیاں نکاح میں دو۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے اور اپنی حفاظت کی خاطر خفیہ طور پر اپنے گھر بار منتقل کرنے لگے۔

جب داعشیوں کوعلم ہوا کہ لوگ اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں، تو ان کے گھر اور گھر کا سامان انہوں نے غنیمت کر لیا ، ان کی اشیائے خوردو نوش خود استعمال کر لیں اور ان کے مال مویشی ذبح کر دیے۔

اگر منتقل ہونے والے اپنے ساتھ سامان لے جانے کی کوشش کرتے توان کا سامان زبردستی ہتھیا لیتے اور اسے اپنے استعمال میں لے آتے۔ لوگ درزاب میں اپنے گھر بار داعش کے لیے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ داعشیوں نے لوگوں کے گھروں کو برباد کر دیا، کچھ نے انہیں جلا ڈالا، باغ کاٹ ڈالے، مال مویشی ذبح کر دیےاور اس طرح وہاں انہوں نے اسلامی خلافت کا اعلان کیا۔

امت کے شاہسوار بہادروں نے ان مظلوم لوگوں کی فریاد سنی اورضلع درزاب میں زبردست آپریشن شروع کر دیا، داعشیوں کو درزاب سے نکال باہر کیا، جھوٹی خلافت کو ختم کیا، لوگوں کو ان کے گھروں میں واپس بھیج دیا اور انہیں حفاظت کی یقین دہانی کرائی۔ درزاب کے لوگ اب داعش سے اس قدر بیزار ہیں کہ وہ اس کے نام سے بھی نفرت کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے مسؤلین سے ان لوگوں کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ تعلیمی نصاب میں داعش کے مظالم پر ایک مضمون شامل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے شر اور فساد سے آگاہ ہوں۔