داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی

پہلا حصہ

ابو ذر العراقی کی گواہی:

ابو ذر العراقی شروع میں شيخ زرقاوی شہید تقبلہ اللہ کی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوئے، العراقی کافی عرصہ عراق میں تھے پھر اس کے بعد شروع میں شام چلے گئے وہاں پر ان کو حسکہ ادارے کا مدیر اور اس کے بعد پھر المیادین کا والی (گورنر) مقرر کیا گیا، العراقی نے ایک ویڈیو کلپ میں بہت سارے ان جرائم سے پردہ اٹھایا ہے جو داعش نے شام میں کئے تھے۔

ابوذر العراقی کہتے ہیں: جب میں المیادین کا والی تھا، تو احرار الشام جماعت کے ایک مقامی ذمہ دار نے ملاقات کا پیغام بھیجا، تاکہ مل بیٹھ کر داعش اور احرار الشام کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل حل کئے جائیں، دس بجے ہمارے درمیان وقت طے ہو گیا تھا۔ اور بات چیت جاری تھی کہ اچانک خبر آگئی کہ داعش نے المیادین میں احرار الشام کے مرکز پر خودکش حملہ کر دیا ہے جس میں مجاہدین کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوگئی ہے، میں حیران رہ گیا اور عامر الرفدان جو دیرالزور کے گورنر اور خودکش حملوں کے مسئول اور ذمے دار تھے سے ملاقات کی، اور اس سے پوچھا کہ تم نے احرار الشام کے مجاہدین کے پیچھے اپنے خودکش کو کیوں بھیجا؟

کیا وہ مسلمان، مجاہدین نہیں ہیں؟

لیکن عامر الرفدان نے مجھے جواب میں فقط اتنا کہا کہ یہ دولت اسلامیہ (داعش) کی پالیسی ہے، اور آپ ان باتوں کو نہیں سمجھتے اور مجھے عہدے سے برطرف کر دیا، میں ابو معصب التونسی دیر الزور کے شرعی مسؤول کے پاس گیا اور شکایت کی، لیکن اس نے بھی احرار الشام والوں کو مرتد کہا ابوذر العراقی ویڈیو کلپ میں بغدادی کو مخاطب کرتے ہیں:

کہ اے بغدادی! اللہ سے ڈرو، اور قیامت کے دن اللہ کے سامنے عبد الکریم ابن باز، ابو مصطفی، ابوبکر السبعوی کے خون کا کیا جواب دوگے؟ وہ تو مددگار تھے جو آپکے حکم پر قتل کئے گئے ان کا جرم فقط یہ تھا کہ تمہاری بیعت سے انکار کیا تھا (یہ تینوں دولت اسلامیہ(داعش) میں بڑے عہدوں پر فائز لوگ تھے)

 

ابوذر العراقی مزید فرماتے ہیں:

 

اے داعشیوں جب تم لوگ میری یہ ویڈیو دیکھو گے تو مجھ پر بھی مرتد کا حکم لگاؤگے، اللہ کی ذات کی قسم میں موحد ہوں، صلیبیوں اور روافض کے خلاف جہاد کیا ہے، عراق کے ہر محاذ پر لڑا ہوں۔ میرے بارے میں یہ سب کچھ تمہیں خود بھی معلوم ہے۔ ابو ذر العراقی نے یہ بیان ایک ویڈیو کے ذریعے جاری کیا تھا