داعش کے خلاف گواہی | آٹھویں قسط

#image_title

ابو تراب مجاہد کی گواہی:

ابو تراب اصل میں امریکہ کے رہنے والے ہیں، انہوں نے ابتداء میں داعش میں شمولیت اختیار کی، کیونکہ وہ عسکری میدان میں اچھی صلاحیت رکھتے تھے، اس لیے انہیں دیر الزور میں بطور معسکر استاد تعینات کیا گیا اور انہوں نے وہاں تربیت دینا شروع کی۔ انگریزی میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں ابو تراب نے داعش کے مخلص مجاہدین کو اس طرح مخاطب کیا: بغدادی کی دولہ میں شامل ہونے والے مہاجر بھائیو! آپ نے اسلام کے دفاع اور شام کے مظلوم اور کمزور مسلمانوں کی نصرت کے لیے ہجرت کی۔ میں دیر الزور کے ایک معسکر میں استاد تھا، ہمارے چار مہاجر ساتھیوں اور داعش کے کچھ ارکان کے درمیان تکفیر کے مسئلہ پر بحث ہو گئی، داعشیوں کے نزدیک ہر وہ شخص جو ان کی مخالفت کرتا ہے وہ کافر ہے، ان چار بھائیوں پر جب داعش کی یہ حقیقت واضح ہو گئی، تو انہوں نے معسکر سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن ان میں سے تین کو داعش نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا جبکہ ایک شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اس واقعہ نے میری سوچ بدل دی اور میرے ذہن میں یہ سوچ گھر کر گئی کہ کیا میں ایسے لوگوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر رہا ہوں کہ جو گمراہ ہیں؟ یہی وجہ تھی کہ میں نے خود کو داعش سے علیحدہ کر لیا اور القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ القاعدہ والے ہی اصلی اور حقیقی مجاہدین ہیں۔
ابو تراب کہتے ہیں: بغدادی کی خلافت اور آل سعود کی حکوت میں کیا فرق ہے؟ اگر اسلام چوری اور زنا پر حد نافذ کرنے کا نام ہے تو پھر تو سعودی حکومت بھی اسلامی ہے، کیونکہ وہ بھی یہ حدود نافذ کرتی ہے۔

داعش نے دیر الزور میں ان مجاہدین کو پیچھے سے گھیرے میں لے لیا کہ جو بشار الاسد کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔ ابو تراب داعش سے اپنے خطاب میں کہتے ہیں: ہم کس دلیل کے تحت مرتد ہیں؟ کیا تم وہ آذانیں نہیں سنتے جس کی آوازیں ہمارے گھروں سے اٹھتی ہیں؟

اس سے قبل ابو تراب کہتے تھے: اگر آپ تحقیق کریں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ مہاجرین کو جنگ کے خطِ اوّل پر بھیجا جاتا ہے اور انصار میں زیادہ تر بشار کے ساتھی ہیں، انہوں نے بغدادی سے بیعت صرف اس لیے کر رکھی ہے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائے، کیا بڑے بڑے رہنما جنگ میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے؟ تم نے صدام کے کمیونسٹ بعثی جرنیلوں کو مجاہدین پر حاکم کیوں بنایا ہے؟

ابو مصعب الزرقاوی نے ان بعثی جرنیلوں کو ان کے فاسد عقائد کی وجہ سے اپنی صفوں میں نہیں آنے دیا، جبکہ تم نے انہیں اپنے لیڈر بنا لیا ہے۔ جس طرح سعودی حکومت مسلمانوں کو دھوکہ دیتی ہے اسی طرح تم بھی مسلمان نوجوانوں کو دھوکہ دیتے ہو، انہوں نے بھی توحید کا پرچم بلند کیا ، قرآن کریم کو چھپواتے ہیں، چور کے ہاتھ کاٹتے ہیں، زنا کرنے والے کو کوڑے مارتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے حرمین کی پاک سرزمین پر ناپاک امریکیوں کو جگہ دے رکھی ہے، مغربی افکار و نظریات کی حفاظت اور اشاعت کرتے ہیں۔ اسی طرح سے تم نے بھی مجاہدین کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے، نصیریوں کے پکڑے گئے ۱۷ گروہ تم نے پھر سے بشار کے فوجیوں کے حوالے کر دیے اور دوسری طرف دیر الزور میں مجاہدین کے خلاف جنگ شروع کر دی.

جس طرح سعودی حکومت بظاہر شریعت کے تحت فیصلے کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ، جبکہ دوسری طرف سیاسی قید خانے بنا رکھے ہیں تاکہ راسخ العقیدہ مسلمان اور مجاہدین کو وہاں طرح طرح کی صعوبتیں دی جا سکیں، حق پرست علماء کی گردنوں پر تلوار رکھ دی گئی ہے، یہ سب صرف اس لیے کہ ان کے اقتدار اور اختیار کو کوئی نقصان نہ پہنچ پائے۔
اسی طرح سے بغدادی کی مصنوعی خلافت میں اگرچہ بظاہر شرعی فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن ان کے سربراہان نے اپنا اختیار ہمیشہ کے لیے قائم رکھنے کے لیے سیاسی قید خانے بنا لیے ہیں تاکہ مسلمان اور مجاہدین کو ان میں ڈالا جا سکے۔

اس طرح کی سینکڑوں کہانیاں ہیں لیکن اختصار کی خاطر ہم صرف چند لوگوں کا ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے داعش میں وقت گزارا اور ان کی حقیقت دنیا پر روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی، انہیں جھوٹا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ نہ تو داعش کے مخالفین تھے اور نہ ہی داعش سے بے خبر لوگ، بلکہ یہ تو داعش کے اپنے لوگ اور گھر کے بھیدی تھے۔

ماخذ: شیطانی لشکر