داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی
چھٹی قسط

قاضی ابو شعیب مصری کی گواہی:
ابو شعیب مصری ایک بڑے عالم ہیں، اور لیبیا میں داعش کی مجلس شوریٰ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ قاصی ابو شعیب نے اپنے ایک آڈیو بیان میں داعش سے علیحدگی کی وجوہات کچھ یوں بیان کی ہیں:
میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ پوری سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں اور میرے ساتھ کے تمام لوگ ان حقائق سے بخوبی واقف ہیں۔
میرا مقصد اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے سامنے اپنی شرعی ذمہ داری ادا کرنا ہے تاکہ مسلمان اس گمراہ گروہ سے آگاہ ہوں، میرا دوسرا اہم مقصد یہ ہے کہ مخلص مجاہدین اور فدایوں کا پاک خون محفوظ ہو جائے، کہ جن کا مقصد پاکیزہ جذبے کے ساتھ فدائی حملہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر داعش کی قیادت مخلص اور سچی ہوتی تو یہ فدائی حقیقی دشمن (کفار) پر حملے کے لیے بھیجے گئے ہوتے، لیکن اس کے برعکس وہ مجاہدین جو کفار سے جنگ میں مصروف تھے، انہوں نے ان کے مراکز کو تباہ کیا اور اس کام کے لیے ان لوگوں کو بھیجا کہ جنہوں نے اپنا گھر بار شہادت کی تمنا میں چھوڑ دیا لیکن داعش نے ان کی دنیا اور آخرت تباہ و برباد کر ڈالی۔
ابو شعیب مصری کی مراد سوڈانی جیسے لوگ ہیں کہ جو اپنے گھروں سے شہادت کی آرزو لے کر نکلے تھے، لیکن انہیں مجاہدین کے مراکز پر حملے کے لیے بھیج دیا گیا، اور اس حملے میں ابو سلمان سوڈانی خود بھی مارا گیا اور اس طرح سے داعش نے اس کی دنیا اور آخرت تباہ کر دی۔
قاضی ابو شعیب مصری کہتے ہیں: دوسرے مسلمانوں کی طرح مجھے بھی بہت خوشی ہوئی جب میں نے خلافت کا اعلان سنا اور میں نے سوچا کہ خلافت کے دوبارہ قیام سے ہمارا دیرینہ خواب حقیقت میں بدل گیا۔ خلیفہ کا انتخاب اور شرعی خلیفہ سے بیعت فرض ہےاس لیے میں چلا آیا اور اس گروہ میں شامل ہو گیا جس نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا۔ میرا یہ پختہ ارادہ تھا کہ اس گروہ کا ساتھی بنوں گا، اس لیے میں لیبیا آگیا اور یہاں شرعی عدالت کا سربراہ مقرر ہوا۔ پہلے روز مجھ سے کہا گیا کہ دیگر ممالک سے آنے والے مہاجر مجاہدین کو کڑی نگرانی میں رکھا جائے گا اور انہوں نے مجھے مہاجرین سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میں نے خود کو یہ تسلی دی کہ چونکہ داعش مہاجرین کا خیال کرتی ہے اس لیے ان کی حفاظت کے لیے انہیں باہر نہیں جانے دیتی اور کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جب میں نے شرعی عدالت میں کام شروع کیا تو مجھ سے کہا گیا کہ یہ درنہ کے لوگ مرتد ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے مرتدین کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ طاغوت کو کافر بھی نہیں کہتے، اس لیے ہم ان سے جنگ کریں گے۔ ہم نے جب ان سے جنگ کی تو ہم نے انہیں اچھے اخلاق والا پایا اس سے ہم سمجھ گئے کہ یہ لوگ مرتد نہیں ہیں بلکہ یہاں بھی داعش نے اپنے روایتی فریب کے ذریعے سے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور وہ یہ کہ جو بھی داعش سے بیعت نہیں کرتا اور اپنا اسلحہ اس کے حوالے نہیں کرتا وہ مرتد ہے، اس کا قتل واجب ہے اور اس کی جان اور مال حلال ہے۔

ماخذ: شیطانی لشکر