داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی
پانچویں قسط

ابوذر جزراوی کی گواہی
ابوذر جزراوی بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے جبہۃ النصرہ کے مرکز پر حملہ کیا، لیکن مجاہدین نے انہیں زندہ گرفتار کر لیا۔ ایک ویڈیو میں انہوں نے بہت سے قابل ذکر حقائق کا انکشاف کیا۔ ابو ذر جزراوی اپنی کہانی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
میں جہاد کی نیت سے شام آیا اور یہاں دولت اسلامیہ (داعش) میں شامل ہو گیا۔ الشدادی شہر میں میں نے ٹریننگ حاصل کی اور ٹریننگ کے بعد میں نے کہا کہ میں فدائی حملہ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ابو عمارہ عراقی کی طرف سے کئی بار جبہۃ النصرہ پر حملہ کرنے کے لیے کہا گیا لیکن میں انکار کرتا رہا۔ مجھے ابو عمارہ عراقی نے تین بار کہا کہ تم جبہۃ النصرہ کے مرکز پر فدائی حملہ کرو، لیکن میں نے ہر بار انکار کیا، آخری بار ابو عمارہ نے مجھ سے کہا کہ تم مرتدین پر فدائی حملہ کرو گے اس لیے تیاری کر لو۔ اس وقت سے حملے کے وقت تک مجھے جگہ کا علم نہیں تھا، جب مقررہ جگہ سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ فلاں گھر پر فدائی حملہ کرو اس میں مرتدین جمع ہیں اور تمہارا نشانہ یہ لوگ ہیں۔ جب ہم نے اس گھر پر حملہ شروع کیا اور اندر داخل ہو گئے تو ہم نے خواتین اور بچوں کے رونے کی آوازیں سنیں، اس کے ساتھ ہی میرے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید ہم نے مسلمانوں کے گھر پر حملہ کر دیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہی واضح ہو گیا کہ داعش نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے ۔ ہم نے حملہ روک دیا اور ان سے کہا کہ اپنے شرعی مسئول اور ذمہ دار کو بلائیں۔ ان کے آنے کے بعد ہم نے خود کواپنے اسلحے سمیت ان کے حوالے کر دیا۔
ابوذر مجاہدین کے بہترین طرزِ عمل سے بہت متاثر ہوئے، وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھے اور روتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ لوگ (مجاہدین) تو ہمارے ساتھ بالکل بھائیوں کے جیسا سلوک کرتے ہیں۔
ماخذ: شیطانی لشکر