داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی
چوتھی قسط

ابو البراء جوفی کی گواہی:
ابو البراء جوفی بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں داعش نے جبہۃ النصرہ کے مجاہدین پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ اپنی کہانی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
میں مجاہدین کی نصرت کے لیے شام آیا تھا اور یہاں دولتِ اسلامیہ (داعش) نامی گروپ میں شامل ہو گیا اور حلب میں ان کے ٹریننگ کیمپ میں رہنے لگا۔
میری خواہش فدائی حملہ کرنے کی تھی، کافی انتظار کے بعد ابو عمارہ عراقی نے مجھ سے کہا کہ ادلب میں مرتدین کے مرکز پر حملہ کرنے کی تیاری کرو، اس کے علاوہ کوئی معلومات فراہم نہیں کیں کہ یہ مرکز کس کا ہے، کاروائی کب کی جائے گی؟
جب ہم مقررہ جگہ سے پانچ سو میٹر کے قریب پہنچ گئے تب ہمیں بتایا گیا کہ اس علاقے میں ایک گھر ہے جس میں مرتدین جمع ہوئے ہیں، تمہیں ان لوگوں پر فدائی حملہ کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہاں عام لوگ نہیں ہوں گے؟ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ سب کفار ہیں، حالانکہ یہ جبہۃ النصرہ کے مقامی مجاہدین کے مسئول کا گھر تھا۔
ہم گھر کے بہت قریب پہنچ گئے تو سب سے پہلے میرے ساتھی ابو سعد نے جبہۃ النصرہ کے مجاہدین پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد میں گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک سفید ریش بزرگ، عورت اور بچے ہیں۔ اس بزرگ آدمی نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں میں تو ایک عام آدمی ہوں، میرا تعلق کسی گروپ سے نہیں۔
میں چھت پر چڑھ گیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ کچھ وقت کے بعد مجھے پتہ چلا کہ داعش نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور ہمیں مسلمانوں کے خلاف بھیجا گیا ہے۔
میں نے مجاہدین سے کہا کہ اپنے شرعی مسئول کو بلائیں۔ ان کے آنے کے بعد میں نے خود کو اور اپنا اسلحہ ان کے حوالے کر دیا۔

ماخذ: شیطانی لشکر