داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی

 

تیسری قسط

 

ایک بوڑھے مصری کی گواہی:

 

ابو یسیر محمود عبد الجبار مصر کے صوبے اسکندریہ کے رہنے والے تھے۔ داعش نے بہتر (۷۲) سالہ سفید ریش کو جبہہ النصرہ پر کار بم حملہ کرنے کے لیے بھیجا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرتے، جبہہ النصرہ کے مجاہدین کے ہاتھوں اپنی گاڑی سمیت زندہ پکڑے گئے۔

ابو یسیر اپنی کہانی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

۲۰۱۳ء میں ترکی سے شام آیا۔ مجاہدین میں شمولیت سے پہلے میں جبل الکرد میں تھا، وہاں میں نے سات ماہ گزارے۔ ابو ایوب تیونسی نے مجھے فدائی حملہ کرنے کے لیے کہا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اس کی بات کو پورے خلوص کے ساتھ اس شرط پر قبول کیا کہ بشار الاسد کی فوج پر فدائی حملے کی ترتیب بنائی جائے گی۔ داعش نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اور مجھے مجاہدین پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دیا۔

ابو یسیر مجاہدین کے حسنِ سلوک سے بہت خوش تھے۔

ماخذ: ( خوارج العصر کا علمی جائزہ)