داعش کے خلاف گواہی

#image_title

داعش کے خلاف گواہی

دوسری قسط

ابو مصعب تونسی کی گواہی

ابو مصعب تونسی کا تعلق تیونس سے ہے۔ وہ دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے پہلے لیبیا پہنچے پھر وہاں سے شام چلے گئے۔ وہ اپنا قصہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

شام پہنچنے کے بعد میں ادلب میں داعش کے مرکز میں رہنے لگا ۔ دس دن تک داعش کے شرعی مسؤلین (نظریاتی اساتذہ) نے فکری و نظریاتی تعلیم دی۔ دس دن بعد داعش کے مسؤلِ خارجہ نے ہم سے پوچھا: ’’تم لوگ اب کیا کرنا چاہتے ہو؟‘‘

میں نے جواب دیا: ’’میں فدائی حملہ کرنا چاہتا ہوں!‘‘

ہماری ملاقات ابو علی انباری سے ہوئی اور اس نے ہم سے کہا: ’’تم لوگ نور الدین زنگی کے مرتدین پر حملہ کرو گے۔‘‘

ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ نور الدین زنگی والے لوگ کون ہیں؟ کن کے ساتھ ان کا تعلق ہے؟ اور یہ نام کون لوگ استعمال کرتے ہیں؟

ہمیں تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ داعش اور القاعدہ نظریاتی لحاظ سے الگ الگ لوگ ہیں، اب تک ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ دونوں ایک ہی ہیں اور مجاہدین ہیں۔ ہمیں ’بصراتون‘ کے علاقے میں داعش کے ایک فدائی حملے کے ٹریننگ کیمپ میں بھیج دیا گیا، وہاں کچھ دن ہم نے تربیت حاصل کی، اس کے بعد ہمیں ایک نامعلوم مقام پر بھیج دیا گیا۔ ہمییں یہ پوچھنے کا حق نہیں تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، جو بھی یہ پوچھتا اس پر جاسوس ہونے کا شک کیا جاتا۔ہمیں فقط اتنا بتایا گیا کہ آپ کا حملہ ’پی کے کے‘(PKK) کے مرتدین پر ہو گا۔

جب ہم اپنے ہدف تک پہنچے اور مرکز میں داخل ہو کر حملہ شروع کر دیا ، تو ہم نے جبہہ النصرہ کا پرچم دیکھ لیا۔ لڑائی کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم نے ’پی کے کے‘ (PKK)کے مرتدین پر حملہ نہیں کیا بلکہ جبہہ النصرہ کے مجاہدین کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ہم نے جنگ روک دی اور امان مانگا، اور ان سے کہا کہ ہم ان کے شرعی مسؤل سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے شرعی مسؤل سے بات کرنے کے بعد ہم نے اپنا تمام اسلحہ اور بارودی جیکٹیں ان کے حوالے کر دیں۔

ابو مصعب تیونسی کہتے ہیں : اللہ کی قسم! داعش کا میڈیا جو کچھ نشر کرتا ہے ، حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ہم نے ان کے میڈیا سے یہی سمجھا تھا گویا یہاں کوئی اسلامی خلافت قائم ہے ، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف تھی ۔

ہم جبہہ النصرہ کے حسنِ سلوک کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئے کہ ہم ان کو مارنے کے لیے آئے تھے اور انہوں نے ہمارے ساتھ بھائیوں والا معاملہ کیا۔

مصدر: شیطانی لشکر