داعش کے بارے میں نادیدہ حقائق

#image_title

داعش کے بارے میں نادیدہ حقائق

نواں حصہ

طاہر احرار

 

مضمون دیکھنے والے حیران ہوں گے اور سوچیں گے کہ اگر داعش (C I A) اور موساد کا مشترکہ منصوبہ نہیں ہے تو امریکہ اس سے کیوں لڑ رہا ہے اور کیوں ان پر بمباری کر رہا ہے؟

چلو بھئی یہ جواب ایک ریٹائرڈ امریکی جنرل پال برینر کی تحریر میں پایا جا سکتا ہے۔

برینر، جو جنگ کے وسط تک ریٹائر نہیں ہوئے، اور عراق و شام میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

U.S. bombings against ISIS have largely been labeled an exercise in perception management. Although the US military regularly claims to have bombed specific targets, video evidence of the bombings has rarely been released.

امریکہ دراصل داعش پر بمباری نہیں کر رہا ہے ۔
داعشی خوارج کے خلاف امریکی بمباری بڑی حد تک جعلی اور برائے نام ہوتی ہے، حالانکہ امریکی فوج باقاعدگی سے مخصوص اہداف پر بمباری کرنے کا دعوی کرتی ہے؛

Leaked documents show that the US has banned its fighter pilots from targeting a long list of ISIS training camps, camps that turn out thousands of fighters a month. Award-winning journalist Robert Fisk told Australian publication LatLine that the U.S. could have bombed a convoy of Islamic State militants who had taken Palmyra, but instead allowed them to attack a Syrian military outpost and the ancient city. Get them started now. When the US dropped bombs on ISIS

(ریٹائرڈ جنرل پال برینر)

لیک ہونے والی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں؛ کہ پینٹاگون نے اپنے لڑاکا پائلٹوں کو داعش کے تربیتی کیمپوں کی ایک لمبی فہرست دی اور ان پر بمباری کرنے سے منع کیا، وہ کیمپ جن میں ایک ماہ کے دوران ہزاروں جنگجوؤں کو تربیت دی جاتی ہے۔

اگر امریکہ نے واقعی داعش پر بمباری کی تو ان کے تمام جنگجو جلد ہی مارے جائیں گے۔

اس لیے کہ وہ چھپے نہیں ہیں، وہ افغانستان میں طالبان کی طرح نہیں ہیں جو جنگل کے پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں، اور جنگلوں سے نکل کر فوجیوں پر حملہ کرتے ہیں، اس لیے امریکی فضائیہ کے لیے ان کو نشانہ بنانا ممکن نہیں۔
طالبان تو داعش کی طرح بمباری کرنے کے لیے ملٹری لائن بھی نہیں بناتے۔

جنرل پال برینر کہتے ہیں؛ کہ امریکہ داعش کے جنگجوؤں کی طویل فوجی لائن پر بمباری کر سکتا تھا جو پالمیرا پر قبضہ کرنے جا رہے تھے، کیونکہ لائن میں موجود تمام فوجی ٹینک عراقی حکومت سے چھین لیے گئے تھے اور ہر گاڑی پر سیاہ جھنڈے لہرا رہے تھے، لیکن اس کے بجائے اس نے داعش کو شامی فوج پر قبضہ کرنے اور قدیم شہر پالمائرا کو قبضہ کرنے
کے لیے چھوڑ دیا۔

وہ مزید کہتے ہیں؛ جب امریکہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر بم گراتا ہے، تو وہ درحقیقت اس موقع کو شام کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

امریکی جنگ کا مقصد صرف شہروں کو تباہ کرنا ہے، جیسا پالمائرا شہر جو ایک قدیم شہر ہے، اس کا تباہ کرنا ان کے لیے بہت ضروری تھا۔

برینر کہتے ہیں؛ جب داعشی خوارج پالمائرا میں داخل ہوئے تو امریکی فضائیہ نے ان کے جنگجوؤں سے دور شہر پر بمباری شروع کر دی اور پالمائرا کو تباہ کر دیا۔

اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے اپنے کرائے کے ٹھیکیدار داعشی خوارج کو استعمال کیا۔

 

لیکن بدقسمتی سے ٹھیکیدار ایک بار پھر اسلام کا بابرکت نام استعمال کر رہے ہیں۔ اور سادہ لوح مسلمان بھی اس سازش کا شکار ہو جاتے ہیں۔