داعش کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟

#image_title

داعش کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟

پانچویں قسط

طاہر احرار

 

صوبہ کنڑ، ضلع شیگل

ایک سلفی عالم کی زبانی:

یہ کوئی راز کی بات یا پراپیگنڈہ نہیں ہے ، بلکہ کونڑ کے لوگ گواہ ہیں کہ جمہوری نظام کے سقوط سے چند سال قبل داعشیوں کا دعویٰ تھا کہ مشرقی زون داعش کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ان کے اور امریکہ کے درمیان اس قسم کے عہد و پیمان ہو چکے تھے کہ جب امریکہ علاقہ چھوڑے گا تو اس کی جگہ داعش لے لے گی۔ امریکہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ طالبان دوبارہ حکومت کریں۔ اس بات سے داعشی بہت خوش نظر آتے تھے اور خود کو فاتح خراسان گرداننے لگے تھے۔

ہم اس وجہ سے خوش تھے کہ داعش کے عروج کے ساتھ سلفیت کا تصور بھی پروان چڑھے گا۔ لیکن یہاں کچھ وقت گزر جانے کے بعد پتہ چلا کہ حقیقت میں داعشیوں کا تعلق کسی مذہب، عقیدے یا نظریے کے ساتھ نہیں ، بلکہ وہ تو اپنی نفسانی خواہشات کو لوگوں پر مسلط کرتے ہیں اور اسے اسلام کا نام دیتے ہیں۔

مجھ سمیت وہ تمام لوگ جنہوں نے داعشیوں کو اپنے دسترخوان پر ساتھ بٹھایا ، اس بات سے بہت مایوس ہو گئے اور ان سے قطع تعلق کر لیا۔ پھر ان کے ساتھی صرف ڈاکو اور جمہوری نظام کے بے روزگار فوجی رہ گئے۔

ہمیں جس ابابیلوں کے لشکر کا انتظار تھا، وہ آ پہنچا اور اس نے ان کے خراسان کے خوابوں کوخاک میں ملا دیا۔

مشرقی زون کی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا، نہ صرف افغانستان میں بلکہ عراق اور شام میں بھی یہ فنا ہوئے اور ان کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ پورے افغانستان بالخصوص مشرقی زون نے ان کے ظلم و جبر سے نجات پا کر سکھ کا سانس لیا۔

(وللہ الحمد)