داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

#image_title

طاهر احرار

ميں کچھ تاخیر کے بعد کابل آیا، لوگوں کے چہروں پر خوشی دیکھی، گزشتہ بیس سال کے دوران امریکہ اور ناٹو کے حملے اور ان کے یہاں رہنے پر سب افسوس کر رہے تھے،  خاص طور پر ان حقائق نے لوگوں کو حیران کر دیا تھا جو گزشتہ نظام کے کارندوں سے آئے روز سامنے آرہے تھے۔

لیکن میرے لیے لوگوں سے سننے میں سب سے دلچسپ موضوع داعش کا تھا،

کسی آدمی نے مجھے کہا: میں حکومت کا ملازم نہیں ہوں، لیکن میں ہر روز ایک ملازم کی طرح کام کرتا ہوں، میں مشکوک افراد اور ان کے نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہوں، میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی بھی داعشی کو تلاش کروں اور سیکیورٹی فورسز کو اطلاع دوں۔

ایک اور آدمی نے مجھ سے کہا: میں پچھلے نظام میں فوجی افسر تھا، اب گھر پر ہوں ڈیوٹی نہیں ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں ملک کا ذمہ دار نہیں، بلکہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ داعش کی جانب سے استعمال کیے جانے والے حربوں کو شیئر کرنے میں بہت دلچسپی رکھتا ہوں۔ تاکہ لوگ اس فتنہ سے محفوظ رہے۔

ایک اور شخص کا کہنا ہے: کہ امریکی ملک کو داعش کے ہاتھوں غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں، تاکہ ایک بار پھر افغانستان پر حملے کے لئے راہ ہموار ہو جائے، اور اس بار پھر افغان امریکیوں کا استقبال کریں، لیکن امارت اسلامیہ کے شہسواروں نے ان کے خوابوں کو خاک میں ملا دیا، حملے کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔

اس نے یہ بھی کہا: افغانستان کے لوگ ھر قسم مجبوری کے ساتھ کچھ نہ کچھ برداشت کرلیں گے، لیکن داعش ایک ایسا گروہ ہے جس کے ساتھ ملک کا کوئی طبقہ تعاون کرنے کو تیار نہیں، حتی کہ امارت اسلامیہ کے مخالفین بھی ملک میں داعش کی موجودگی کو قبول نہیں کرتے اور ان کے سخت خلاف ہیں۔

وہ افغان جن کا داعش سے تعلق ہے وہ افغانی نہیں ہیں بلکہ وہ قتل و غارت، تباہی اور خوف کے ایجنٹ ہیں جن کے ساتھ رحم نہیں کیا جانا چاہیے۔