داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

#image_title

داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

حصہ چہارم

طاہر احرار

 

جبل السراج ضلع میں جمعیت کے ایک کمانڈر (……) سے ہماری ملاقات ہوئی جو امریکی قبضے سے پہلے امارت اسلامیہ کے خلاف لڑتا چکا تھا۔

جنگ کے بارے میں طویل بحث کے بعد، ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آج امارت اسلامیہ کے خلاف کسی تنظیم یا داعش کی حمایت کرتے ہیں؟

کمانڈر نے اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور تین بار استغفر اللہ کہا، پھر استعاذہ یا أعوذ باللہ کہا۔ کمانڈر نے کہا کہ ماضی میں ہماری مخالفت کی وجہ سے استغفر اللہ کہا اور مستقبل میں مخالفت پر أعوذ باللہ کہا۔

ان کا کہنا ہے کہ داعش ہمیں انسان نہیں لگتے،  میں جانتا ہوں کہ انہوں نے ننگرہار میں کیا کیا، ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک نفرت انگیز اور ظالم تنظیم ہے۔

کاپیسا سے لے کر چاریکار، سالنگ، پنجشیر اور اندراب تک، جہاں ہم رہتے ہیں، اسمیں داعش کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ممکن ہے کچھ ڈاکو، مجرم جو ہمارے وطن سے ہوں وہی نام استعمال کر کے ہمیں بدنام کریں، لیکن پھر بھی ہم اجازت نہیں دیتے۔ ہم نے ایک طویل عرصے تک القاعدہ کے ساتھ کام کیا ہے اور ان کے عقائد سے واقف ہیں، اب جب کہ داعش عراق اور شام میں القاعدہ کے ساتھ لڑ رہی ہے تو معلوم ہوا کہ داعش حقیقی مسلمان نہیں ہے۔

ہم نے افغانستان کے شمالی حصے کے باشندوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ کسی صورت داعش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔