داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے؟

#image_title

داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے؟

دوسرا حصہ

طاہر احرار

کابل کے خوبصورت اور دل نما نظارے کے بعد میں پنجشیر کے خوبصورت وادي چلا گیا، پنجشیر کے زیادہ تر باشندے تاجک ہیں اور آج کل داعش تاجکستان کے ہاتھ کا آلہ بن چکا ہے، لیکن ان لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے، وہ داعش سے ایسے خوف زدہ اور متنفر تھے جیسے کسی انسان کو زندہ آگ میں ڈالنا۔

 

میں نے ضلع عنابی کے بازار کے ایک ہوٹل میں ایک سفید ریش پنجشیری سے پوچھا تو اس نے کہا: الحمدللہ، پنجشیر کے رہنے والے سب امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے پیروکار(حنفی) ہیں۔

 

اس وادی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کوئی سلفی یا غیر مقلد نظر نہیں آرہا تھا۔

 

روس کے خلاف جہاد کے دوران پنجشیر میں بہت سے عرب آباد تھے، جو غیر مقلد تھے لیکن وہ ایک بھی پنجشیری کو غیر مقلد نہ کرسکے۔

اس نے کہا: پنجشیر کے لوگ عزت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، پنجشیر کے باسیوں میں سے کوئی بھی داعش بننا یا داعش کی حمایت نہیں کرنا چاہتا، ہم ان سے زیادہ نفرت کرتے ہیں۔

ایک چیز جس پر ہم شرمندہ ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نے امریکہ کو شکست دینے کے لیے امارت اسلامیہ افغانستان کا ساتھ نہیں دیا جو تاریخ میں ہمارے لیے باعث شرم ہے۔

 

اس لیے میرے لوگ کسی بھی حالت میں کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو امارت اسلامیہ کی کمزوری کا باعث بنے۔

 

جی ہاں! معلوم ہوا ہے کہ داعش تاجکستان کے راستے سے افغانستان آ رہے ہیں، جو ہمارے لوگوں کے لیے بری خبر ہے لیکن اللہ گواہ ہے کہ ہم اس معاملے میں نسل پرستی کو زیر بحث نہیں لائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنے ہی لوگوں سے تعلقات بھی منقطع کر لیں گے۔