داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے؟

#image_title

داعش کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے؟

تیسرا حصہ

طاہر احرار

 

اس مرتبہ اندراب سے:

مغربی اور مقاومتی میڈیا، فیس بک، ٹویٹر کے لکھاری اور سوشل میڈیا صارفین اندراب کی تصویر کو کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ آپ کہیں گے کہ وہاں ہر روز جنگ ہوتی ہے لیکن اندراب جائیں گے تو آپ کو کچھ ایسا نظر آئے گا جو آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا،

ظہر کے وقت نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھا، یقین کیجئے تکبیر کہتے وقت میرے کانوں تک ہاتھ صحیح نہیں پہنچے تو کسی نے مجھ سے کہا: کیا تم وہابی ہو؟

میں نے اس سے کہا کہ نہیں! کیوں

وہابی لوگ کیسے ہیں؟

انہوں نے کہا: امریکہ اس مرتبہ افغانستان کو داعش کے ہاتھوں تباہ کرنا چاہتا ہے اور ہم مسلمانوں کو حنفی اور سلفی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس منصوبے سے ہمارا بھائی چارہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔

وہابیوں کو اس کی ترویج کے لیے اٹھایا گیا ہے اور وہ داعش کے نام سے لوگوں کو مار رہے ہیں اور ان کی املاک چوری کر رہے ہیں۔

وہ افغانستان میں خلافت کے دعویدار ہیں، لیکن ہم نے ان کی خلافت کی مثال عراق اور شام میں دیکھی ہیں۔

ہم داعش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان سے ہمارا مذہبی اور فکری اختلاف ہے۔

ہمارے امراء اندراب میں موجود چھوٹی سی بغاوت کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہم سب مل کر لڑ رہے ہیں۔

کیونکہ بین الاقوامی اور افغان میڈیا نے امارت اسلامیہ کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا تھا، وہ غلط اور حقیقت سے بعید تھا۔

ہم دوبارہ دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ہم اپنے درمیان دوری پیدا نہیں کرنا چاہتے۔