داعش کی کہانی، داعشیوں کی زبانی

#image_title

داعش کی کہانی، داعشیوں کی زبانی

 

تحریر: عزیز الدین مصنف

 

گزشتہ روز المرصاد نشریاتی ادارے نے داعش کے ان نوجوانوں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم "و شهد شاهد من اهلها” کے نام سے جاری کی، جنہیں کابل پر امارت اسلامیہ کی حکومت کے بعد اسپیشل فورسز کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں گرفتار کیے گئے تھے ۔

اس دستاویز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ داعشی خوارج اور افراطی کی صفوں اور گروپس میں زیادہ تر ارکان اور جنگجو نوجوان کم عمر، نابالغ، امرد، لا علم، جذباتی، جاہل اور ان پڑھ لڑکے ہیں ۔

 

اس خصوصی دستاویزی فلم میں داعشی خوارج کے جوانوں اور اسیر شدہ جنگجوؤں نے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور داعش خوارج کے بارے میں بہت سے راز اور اسرار بیان کیے ہیں ۔

المرصاد نشریاتی ادارے نے اس عظیم مقصد کے لیے کہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کو فکری انحراف، انتہا پسندی، افراط، تشدد اور عقیدوی تردد سے بچایا جا سکے، اپنے دعوتی کاوشوں اور دعوتی جہاد کے سلسلے میں اس بار انہوں نے ان تمام حقائق اور واقعات کو امت مسلمہ کے سامنے ایک مستند ایڈیشن کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

مذکورہ ایڈیشن میں داعش کی صفوں میں دھوکے اور فریب کا شکار ہوئے ان اسیر جنگجوؤں نے بیان کیے گئے کچھ حقائق و واقعات درج ذیل ہیں ۔

 

1_ داعشی خوارج صلیبی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور اداروں کا ایک مشترکہ اور کو خفیہ انٹیلی جنس گروہ ہے، جو امت مسلمہ کے ناخواندہ اور نابالغ نوجوانوں کو اپنی صفوں کی طرف راغب کرنے کے لیے دین اسلام کے کچھ مقدس شعائر، شعاروں، نعروں اور دیگر قسم کی اصطلاحات استعمال کرتا ہے ۔ ان اصلاحات اور شعائر کو استعمال کرتے ہوئے ان نوجوانوں کو دھوکہ دیکر انہیں لاشعوری طور پر کافروں اور صلیبیوں کے مفادات کے لیے انہیں امت مسلمہ کے خلاف ٹوائلٹ پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔

 

2_ داعشی خوارج کو ترکی، جرمنی اور فرانس سمیت کئی دوسری مغربی اور یورپی ممالک کا مالی سپورٹ حاصل ہ ہے، اور معاصر ٹیکنالوجی (بٹ کوائن) کے زریعے اپنا مالی سسٹم چلاتا ہے ۔

جس کا سارا سسٹم اور کنٹرول مغربی ممالک اور سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں میں ہے ۔

 

3_ داعشی خوارج روسی سلطنت کے فوجی قبضے اور فکری نوآبادیات کے تحت ممالک (تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، قازقستان) کے مسلمان نوجوانوں کو اپنی صفوں میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں مسلمان عوام بالخصوص نوجوان نسل دین مبینِ اسلام کے متعلق کافی اور سالم مطالعے، دینی علم، اہل السنۃ والجماعت کی خوبصورت اور معتدل منہج و عقیدے اور بالخصوص حنفی مسلک سے متعلقہ دینی موضوعات، فقہی مسائل اور معلومات سے محروم اور ناواقف ہیں ۔

 

4_ کفار اور صلیبی خفیہ ایجنسیاں خوارج کے ذریعے دین مبینِ اسلام کی کچھ خاص اور مقدس شعائر اور اصلاحات جیسے توحید، جہاد، ہجرت، دار الاسلام، طاغوت، خراسان وغیرہ کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ۔

اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں ان مقدس شعائر اور اصلاحات کے نام بدنام کر کے انہیں ایک افراطی اور وحشی شکل سے تعبیر کیا جائے ۔

 

5_ داعشی خوارج کی جنگجو کو کبھی بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے بارے میں اپنے برائے نام مسؤلین سے پوچھے کہ وہ کہاں رہتے ہیں، کیا کر رہے ہیں اور یہ سارا سسٹم کہاں سے اور کس طرح چلاتا ہے ۔

 

6_ داعشی خوارج کو اپنی برائے نام مشران کی طرف سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا افغانستان دار الکفر اور اس میں حاکم موجودہ دنیا کی واحد اسلامی نظام امارت اسلامیہ افغانستان (أعزہا اللہ) ایک کفریہ نظام ہے، نعوذ باللہ ۔

 

7_ داعشی خوارج بجائے اس کی کہ وہ کفری ممالک میں صلیبی اور کفریہ افواج کے خلاف لڑے، وہ افغانستان میں دنیا کی واحد اسلامی نظام امارت اسلامیہ (أعزہا اللہ) کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، تاکہ یہ نظام مستحکم نہ ہو جائے اور امت مسلمہ کے زخموں کے لیے ملحم اور پٹی نہ بنے ۔

 

8_ داعشی خوارج کو تاجکستان کی حکومت کے خفیہ سپورٹ مکمل طور پر حاصل ہے ۔

 

9_ داعش کے حوالے سے اقوام متحدہ اور کئی ہمسایہ ممالک کے پروپیگنڈے اور دعوے سب غلط اور بے جا ہے کہ گویا داعش افغانستان میں ہے ۔

 

10_ سال 2023 کے دسمبر سے اب تک افغانستان میں مختلف اپریشن کے نتیجے میں 17 تاجکستانی اتباع اور 50 تک پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں، جو اس بات کا مکمل تردید کرتا ہے کہ گویا داعش خوارج افغانستان میں رہتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے لئے خطرہ ہے یا یہ کہ داعشی خوارج افغانستان سے ہمسایہ ممالک پر حملے کرتے ہیں ۔

 

تو تحریر کا مقصود یہ ہے کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور ہمسائے ممالک کو چاہیے کہ وہ تاجکستانی حکومت پہ زور لائے کہ وہ کس طرح اور کیوں اس طرح کام کرتے ہیں اور اپنی اتباع کو بغیر ارٹیفیشلی کاغذات انہیں وہ ہمسایہ ملک کو جانے سے نہیں روکتے ہیں ۔