داعش کی رکن خاتون کو پانچ سالہ بچی کو دھوپ میں باندھ کر پیاسا مارنے کے جرم میں ۱۴ سال قید کی سزا

#image_title

داعش کی رکن خاتون کو پانچ سالہ بچی کو دھوپ میں باندھ کر پیاسا مارنے کے جرم میں ۱۴ سال قید کی سزا

عبد اللہ نظام

جرمنی میں پانچ سالہ یزیدی بچی کو دھوپ میں زنجیروں سے جکڑ کر پیاسا مارنے والی داعش کی خاتون رکن  کو ۱۴ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

جرمن میڈیا کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا نام  جینیفر وینیچ ہے اور اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد عراق میں داعش  تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔

۲۰۱۵ء میں اسے اور اس کے شوہر کو غلاموں کی تقسیم میں رانیہ نامی پانچ سالہ یزیدی لڑکی اور اس کی ماں ملی تھی۔ وینچ اور اس کے شوہر نے  ان دونوں کے ساتھ بہت ناروا برتاؤ کیا۔

اگست ۲۰۱۵ء میں جب رانیہ نے اپنا بستر گیلا کر دیا تو وینچ نے اسے دھوپ میں زنجیروں سے جکڑ دیا اور اس وقت تک جکڑے رکھا جب تک کہ اس کی موت واقع نہیں ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خاتون اور اس کے شوہر نے رانیہ کی والدہ کے سر پر بندوق تان کردھمکی دی کہ اگر وہ روئی تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔

جینیفر وینچ نے اعترافِ جرم کر لیا لیکن اس کا کہنا تھا کہ رانیہ کو دھوپ میں اس کے شوہر نے باندھا تھا۔ وینچ کا شوہر عراقی تھا اور  طہ الج کے نام سے جانا جاتا تھا۔  اسے ۲۰۲۱ء میں انسانیت کے خلاف جرائم  میں عمر قید کی سزا  سنائی گئی تھی۔

رانیہ کی والدہ داعش کی حراست سے زندہ رہا ہو گئی اور اس نے دونوں مجرموں کے مقدموں میں گواہی دی۔

جینیفر وینیچ ، اسلام قبول کرنے اور داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد، حسبہ نامی پولیس فورس میں خدمات انجام دے رہی تھی اور اسے ۲۰۱۶ء میں انقرہ میں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی شناختی دستاویزات کی تجدید کر رہی تھی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد داعش نے بہت سی خواتین اور بچوں کو غلام بنایا  اور آج بھی ان کی بربریت کی داستانیں ایک ایک کرکے سامنے آ رہی ہیں۔