داعش کی حقیقت سامنے آگئی!

#image_title

داعش کی حقیقت سامنے آگئی!

ڈاکٹر عائشہ

 

ایک دفعہ المرصاد نے داعش کے بارے میں کچھ غیر نشر شدہ حقائق، بالخصوص داعش اور اسرائیل کی دوستی اور ان کے درمیان طے پانے والے معاہدات کو نشر کیا۔

خیال تھا کہ اس معاملے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے، لیکن آج معلوم ہوا کہ داعشی واقعی میں ان اسرائیلیوں کی اولاد ہیں۔

تمام عالم کفر یک آواز ہو کر غاصب اسرائیلی حکوت کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ مسلمان احتجاج کر رہے ہیں اور حملوں کی مذمت کر رہے ہیں۔ داعش جس نے خلافت کا دعویٰ کیا ہے، وہ حماس سمیت تمام اسلامی جہادی تنظیموں کو کافر و مرتد گردانتی ہے، امارت اسلامیہ افغانستان کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے کہ وہ پوری دنیا میں خلافت و جہاد کا نعرہ بلند کیوں نہیں کرتی اور امارت اسلامی کو افغانستان تک محدود کیوں کر رکھا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

وہی داعشی یہودی شام کے کنارے اسرائیل کی سرحد کے قریب موجود ہیں، ایک چھوٹا سا حملہ بھی انہوں نے اسرائیل پر نہیں کیا، ایک میزائل تک لانچ نہیں کیا، نہ صرف یہ کہ آج بلکہ داعش نے اپنے ظہور سے لے کر آج تک اسرائیل کے خلاف ایک حملے کا بھی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

جنگ کو تو چھوڑیں، ان نازک حالات میں اس نے اسرائیل کے خلاف ایک بیان تک نہیں دیا، ان بہنوں اور بھائیوں کی شہادت پر اور ان معصوم بچوں کی شہادت پر جن کے منہ دودھ کے ساتھ خون سے بھی لبریز ہوگئے، ابھی تک افسوس کا اظہار تک نہیں کیا۔

حالت یہ ہے کہ اب تو دنیا کے بعض یہودی بھی ان مظالم پر آنسو بہا رہے ہیں۔ پس ثابت ہو گیا، کہ یہ گروہ نہ تو خود مسلمانوں میں سے ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا ہمدرد ہے، بلکہ یہودیوں کا معاہد اور ان کا وفادار ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان سے اس طرح دور رہیں جیسے یہودیوں سے، اور ان سے اس طرح برأت کا اعلان کریں جیسے یہودیوں سے اور مسلمانوں کے درمیان سے اس فتنے کو نکال باہر کریں۔