داعش کو مار بھگانا ہماری اپنی ذاتی ذمہ داری ہے۔

#image_title

داعش کو مار بھگانا ہماری اپنی ذاتی ذمہ داری ہے۔

 

افغان مسلمان عوام نے 20 سال امریکہ کی قیادت میں پچاس ممالک کی قابض افواج کے خلاف اس طرح جنگ لڑی جس نے دنیا کے تمام عقلمندوں کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کردیا اور آخر کار ان سب کو امریکہ کی قیادت میں ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے قابض افواج اور بین الاقوامی انٹیلی جنس کی تمام سازشوں کو بھی ناکام بنا دیا جو انہوں نے ان بیس سالوں میں افغانوں کے خلاف استعمال کیں۔ لیکن سب سے خطرناک فتنہ جو بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں کی آخری امید اور قوت تھی، وہ داعش کے نام سے تھا، داعش نے مختصر عرصے میں افغانستان کے بعض مخصوص علاقوں میں غیر متوقع پیش رفت کی، لیکن مجاہدین کی قربانیوں نے جلد ہی ان کو تمام جگہوں پر شکست سے دوچار کیا۔

 

وہاں پر شکست کھانے کے بعد اس وقت کے انٹیلی جنس اداروں نے داعش کے جنگجوؤں کو شہروں میں منتقل کر کے مختلف مقامات پر آباد کیا، اور ان میں سے کچھ کو مختلف بہانوں اور مقدمات کے تحت جیلوں میں رکھا گیا۔

امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد موقع اور عارضی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داعشی خوارج نے چند مہینوں تک بعض مقامات پر حملے کیے اور ان تمام مقامات کو نشانہ بنایا جو سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ سخت نہیں تھے، جیسے، جماعت، مدرسہ، بازار، خانقاہ وغیرہ…

لیکن اللہ تعالی کی مدد سے مجاہدین نے جلد ہی ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور تقریباً سبھی کو ہلاک یا گرفتار کر لیا۔

حال ہی میں بعض انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امارت اسلامیہ کو داعش کے خلاف بعض ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اور کچھ ایسی تقریریں سامنے آرہی ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کے اس کام کی تعریف کرتے ہیں اور یہ (داعش کو شکست دینا) ان کے درمیان ایک مشترکہ مقصد کے طور پر دکھایا جارہا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ بیانات اور دعوے کس لیے کیے جارہے ہیں؟ یہ بیانات اور دعوے خود داعشی خوارج کے لیے تبلیغاتی کمپاین کا حصہ ہے اور وہ خام مواد ہے جسے داعشی خوارج اپنی صفوں کی طرف دعوت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ہم انہیں بتاتے ہیں کہ وقت گزر چکا ہے اور سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ موجودہ اسلامی شرعی نظام کے خلاف داعش یا کسی دوسرے گروہ کے نام سے کوئی وجود نہیں ہے، اور اگر داعشی خوارج میں سے کوئی فتنہ گر موجود بھی ہے تو امارت اسلامیہ کی افواج ایک نہ ایک دن انہیں گریباں سے پکڑیں گے، اس سلسلے میں افغان مجاہد ملت کو کسی ملک یا کسی خفیہ ادارے کی مدد کی ضرورت نہیں۔

امارت اسلامیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیے اللہ کے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہے، اور عملاً ثابت بھی کرچکے ہیں کہ افغانوں نے اللہ کی مدد سے ہر فتنہ کو شکست دی ہے۔