داعش کا جرم…..!

#image_title

داعش کا جرم!

کافروں کو کافر کہنا مطلوب ہے… اگر کوئی واقعی کا فر ہی کو بس کا فر کہہ رہا ہو تو یہ ظاہر ہے اس کی خوبی ہے ۔ اہل داعش کافر کو تو کافر کہتے ہیں، مگر ان کی برائی اور بد بختی یہ ہے کہ یہ کافر تو کافر ، مسلمانوں کو بھی ساتھ کا فر کہتے ہیں ۔ شام و عراق سے یہ فتنہ اٹھا اور جہاں جہاں یہ پہنچا، وہاں جس جس نے ان کا ساتھ نہیں دیا، انہیں اس گروہ نے کافر قرار دیا۔ کسی مسلمان کو کافر کہنا، ظاہر ہے کوئی کم خطر ناک گناہ نہیں ہے، یہ انتہائی بڑا گناہ ہے۔ اپنے اعمال کی تباہی اور انجام کی بربادی کے لیے یہ ایک جرم بھی کافی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ان داعشیوں کی خامی یہ نہیں ہے کہ یہ کافروں کے خلاف لڑتے ہیں، ان کی اصل برائی اور عظیم ترین جرم یہ ہے کہ یہ کافروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خلاف بھی لڑتے ہیں اور ان کا ناحق خون بہاتے ہیں۔ کسی ایک مسلمان کے بھی ناحق قتل پر اللہ کی رحمت سے محرومی اور جہنم کی دائمی آگ جیسی رونگٹے کھڑے کر دینے والی وعید ہے ، مگر یہاں جس ایمان والے نے بھی ان کے ساتھ اختلاف رائے رکھا، خواہ وہ کتنا ہی بڑا اللہ کا ولی، مجاہد، عابد اور عالم تھا، اُس کا خون انہوں نے اپنے لیے مباح جانا اور اس کے خلاف ان ظالموں نے محاذ جنگ کھول دیا۔ نگر ہار (افغانستان) میں امارت اسلامی کے مجاہدین کا انہوں نے خون بہایا اور اب تک اس جنگ میں امارت کے سینکڑوں انتہائی قیمتی مجاہدین شہید ہو چکے ہیں۔ ایسے عظیم مجاہدین کی شہادتوں کا یہاں امارت اسلامی نے نقصان اٹھایا جنہوں نے امریکیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور جن کو مارنے کے لیے امریکیوں نے دن رات ایک کر رکھے تھے۔ مگر اللہ کے ان اولیاء کو قتل کرنے کی کالک امریکیوں نے نہیں ، بلکہ ان بدنصیب داعشیوں نے اپنے منہ پر کل لی۔ پھر افغانستان ہی نہیں یمن، صومالیہ ،مالی، شام، عراق، لیبیا، چیچنیا جہاں جہاں بھی جہاد ہو رہا ہے، وہاں ان داعشیوں نے افتراق و اختلاف پیدا کیا اور مجاہدین اسلام کا خون بہایا۔ ناحق خون بہانے کی ایسی لت انہیں لگی ہے کہ نہتے مسلمان عوام کو بھی انہوں نے معاف نہیں کیا، بلکہ حیلے بہانوں سے انتہائی بے دردی کے ساتھ ان کا بھی انہوں نے بے دریغ خون بہایا۔