داعش نے اپنے اعلیٰ کمانڈر ابو احمد اللبنانی کے ہلاک ہونے کا اعتراف کر لیا۔

#image_title

داعش نے اپنے اعلیٰ کمانڈر ابو احمد اللبنانی کے ہلاک ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ابو احمد اللبنانی، جس کا نام عبدالرحمٰن موسیٰ القرہانی ہے، داعش کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں میں سے ایک تھا، جو صوبہ الانبار میں عراقی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔

ابو احمد اللبنانی 1995 میں طرابلس کے شہر لبنان میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ اسے 2012 میں طرابلس میں سنیوں اور علویوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے دوران قید کیا گیا تھا۔ قید کے دوران وہ داعش سے متاثر ہو چکا تھا۔چار سال کے بعد اسے 2016 میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

بعد ازاں وہ خود کو لبنان سے عراق سمگل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

داعش کا کہنا ہے کہ ابو احمد 2020 کے آخر میں داعش کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔

آخر کار وہ عراق کے صوبہ الانبار کے صحرا میں آباد ہو گیا۔اس نے پہلے داعش کے کیمپوں میں فوجی تربیت حاصل کی، اور بعد میں کیمپ میں عسکری اور شرعی اسباق کے استاد بن گئے۔

اس کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسے صوبہ الانبار میں داعش کے خلاف لڑنے والے مفرزہ یونٹوں کی تربیت کا انچارج مقرر کیا گیا، درس کے دوران عراقی فورسز نے اس کی جگہ کو معلوم کرلیا اور وہ تصادم کے دوران اپنے کئی ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

غور طلب ہے کہ ابو احمد آگر داعش کے رہنماؤں کے نقطہ نظر سے چوتھی نمبر کے رہنماؤں میں آتا ہے، لیکن داعش کے رہنماؤں کی تینوں کیٹیگریز کی تباہی سے ابو احمد جیسے کمانڈروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ان جیسے کمانڈروں کا ہلاک ہونا داعش کی تابوت میں آخری کیل کی طرح ہیں۔

داعش تمام چھوٹے بچوں کے لیے رہ گیا ہے، اور بڑے بڑے القابات تو ان کے اپنے ہیں، وہ ان کو اپنے لیے استعمال کرکے اپنے آپ کو دشمن سے تھوڑا سا برتر ظاہر کرتے ہیں۔