داعش نے اسرائیل سے معافی کیوں مانگی؟

#image_title

داعش نے اسرائیل سے معافی کیوں مانگی؟

شہاب الافغانی

 

داعشی خوارج کی ایجاد اور ان کا خلافت کا دعویٰ اسلام، مسلمانوں اور خلافتِ اسلامیہ کے احیاء کے لیے نہیں بلکہ امریکہ اور یہود کی حفاظت اور اسلام کے اصل دشمنوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔

داعش جو امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے، اس کے ذریعے شام اور عراق میں انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے ساتھ ساتھ اپنے اقتصادی مفادات کا بھی تحفظ کیا۔ لیکن بہت سے ایسے جہاد سے محبت کرنے والے داعش کی صفوں میں شامل ہوئے کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے خلاف میدان جہاد میں اترے تھے، لیکن سب کچھ بدل گیا، کیونکہ داعشی خوارج کی بنیاد اسلام کو تباہ کرنے والوں نے رکھی تھی۔

نومبر ۲۰۱۷ء میں بعض داعشیوں نے گولان کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی تھی، اس حملے کے نتیجے میں چار داعشی ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کی جوابی فائرنگ سے مارے گئے۔ اس واقعہ کے بعد داعش نے اسرائیلی قابضین سے معافی مانگ لی۔

اسرائیل ٹائمز کے مطابق ۱۸ جنوری ۲۰۱۷ء کو اسرائیلی وزیر دفاع موشہ یلعون نے عبرانی یونیورسٹی میں کہا: ’’داعش نے شام کی سرحد پر گولان کے علاقے میں اسرائیلی فورسز پر حملے پر ہم سے معافی مانگی ہے۔‘‘

موشہ یلعون اور فوجی جوانوں نے داعش کی معافی کے بارے میں زیادہ وضاحت نہیں کی۔

داعش نے نہ صرف اسرائیل سے معافی مانگی بلکہ یہودیوں کے سخت ترین مخالفین کی تکفیر کی اور ان پر ارتداد کا فتویٰ بھی لگایا۔

داعشی خوارج نے جہادی گروپ کتائب القسّام کے ایک مجاہد کو الزینہ نامی جگہ پر پکڑ کر شہید کر دیا۔

کتائب القسّام کے اس مجاہد کا نام موسیٰ ابو ذمار تھا، داعشی خوارج کی عدالت کی طرف سے اس پر ارتداد کا حکم لگایا گیا تھا کیونکہ یہ مجاہد اسرائیلی صیہونیوں کے خلاف جہاد کر رہا تھا، اس طرح یہ داعشی خوارج کے بے رحم ہاتھوں سے شہید ہو گیا۔

کتائب القسّام وہ جہادی نوجوان ہیں جنہوں نے حال ہی میں صیہونی حکومت کے یہودیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور ان میں سے بہت سوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔

داعش پوری دنیا میں اسلام پسند جہادی گروپوں کی مخالفت کرتی ہے اور اپنے گروپ سے باہر کسی کو مسلمان نہیں کہتی۔