داعش زوال پزیر ہے

#image_title

داعش زوال پزیر ہے

حصہ ہفتم

طاہر احرار

داعش اپنی کھوئی ہوئی خلافت کو  بحال کیوں نہیں کر سکتی؟

۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء کو شامی فورسز کے ہاتھوں شام میں داعش کے آخری گڑھ البغور کا سقوط ہو گیا۔

البغور کا سقوط سلسلہ واور شکستوں میں تازہ ترین تھا، جس نے شام اور عراق میں اس گروہ کے بااقی ماندہ اُن علاقوں پر کنٹرول کو بھی ختم کر دیا جہاں ۲۰۱۴ء میں اس نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔

اپنی شکست کے بعد چار سالوں میں، داعش نے شام اور عراق میں اپنے مخالفین پر حملے جاری رکھنے اور خلافت کو زندہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

کووڈ ۱۹ کی وبا، شمال مغربی  شام میں ترکی کی فوجی کاروائیاں، غاصب حکمرانوں کی طرف سے پیدا کی گئی فرقہ وارانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ کئی ممالک نے انہیں اس کوشش میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ گروہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ۔ اس ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے جو درج ذیل ہیں:

پہلا عنصر:  شام اور عراق دونوں کے مقامی گروہ داعش کے واپسی کے خلاف مسلح ہوگئے۔ خلافت کے بعد ان کے نام پر عوام کو اتنا زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا  اور ان پر اتنے زیادہ  مظالم ڈھائے گئے کہ  لوگ اسد حکومت کو داعش سے بہتر سمجھنے لگے۔

دوسرا عنصر:  بیرونی ممالک میں داعش کی شاخیں خلافت کی صحیح تشریح نہیں کر پائیں۔ حالانکہ وہاں انہیں کسی جنگ کا سامنا نہیں تھا  اور وہ خلافت کا درست مفہوم  عوام کو سمجھانے میں کامیاب ہو سکتے تھے، لیکن وہ خود بھی خلافت کے مفہوم سے آگاہ نہیں تھے۔

تیسرا عنصر: جن علاقوں میں انہوں نے حکومت کی وہاں لوگوں کے عقائد اور روایات کا احترام نہیں کیا ۔ داعشی صرف سلفی عقیدے کو قبول کرتے ہیں اور باقی تمام لوگوں کو کافر اور مشرک قرار دیتے ہیں اور طاقت کے ذریعے سے لوگوں پر اپنے نظریات مسلط کرتے ہیں جو کہ کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔

چوتھا عنصر: داعش نئے لوگوں کو بھرتی کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ داعش کی حقیقت اب لوگوں پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی۔ داعش کے زیادہ تر لوگوں نے یا تو داعش کو خیر باد کہہ دیا یا وہ مارے گئے یا جیلوں میں چلے گئے۔  اور اب انہیں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

پانچواں عنصر:  اس گروہ کے مکمل طور پر رسوا ہونے کے بعد اس نے دین اسلام اور خلافت کو بدنام کیا،  اب مغرب نے بھی ان پر ڈالروں کی بارش کم کر دی ہے  اور جو اسلحہ ان کے پاس تھا  وہ یا تو ان سے واپس لے لیا گیا یا پھر ختم ہو گیا۔ اب انہیں پیسوں اور ہتھیاروں کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

دقیق مطالعہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ  زوال پزیر ہے اور اب ختم ہونے کے مراحل میں ہے۔