داعش زوال پذیر ہے…! | حصہ دوم

طاہر احرار

#image_title

امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں داعش کو کبھی بہت مضبوط قوت کہا جاتا تھا۔
انہوں نے امریکیوں کو عراق میں اپنا مقصد کافی حد تک حاصل کرنے دیا، لیکن شام میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان میں بھی امریکہ نے امارت اسلامیہ کے خلاف داعش کو مضبوط کیا، یہاں تک کہ اس نے انہیں اپنے اڈوں میں رکھا اور جمہوریت کے آرمی کو حکم دیا تھا کہ وہ صرف برائے نام ظاہری طور پر داعش کے خلاف لڑے، جب امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے داعش کے خلاف کارروائیاں شروع کیں، تو داعش اور جمہوری فوج مجاہدین کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ننگرہار کے لوگ اس کے گواہ ہیں۔
لیکن اللہ کا شکر ہے کہ امریکی عراق کی طرح اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکے۔
معلومات کے مطابق داعش نے اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے محرم کے مہینے میں شیعوں کے ماتم کے دوران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ایک چھوٹے سے حملے کی بھی اطلاع نہیں ملی۔
سابق رہنما کی وفات کے بعد انہوں نے نئے رہنما کے لیے خراسان کے امیر سے بیعت کی خبر دی اور صرف چند تصاویر شائع کیں، لیکن اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے، انہوں نے سال (2015) کی تصویر شائع کی، جس کی تاریخ تصویر کے کونے میں لکھا ہے، یہ ایک اہم وجہ ہے کہ یہ گروہ خدا (ج) کے حکم سے افغانستان میں غائب ہو گیا ہے اور عراق اور شام میں بھی ان کا واحد مرکز نہیں ہے۔ شام اور عراق میں بھی ان کا متحد مرکز نہیں ہے، آج کل وہ صرف جھوٹ اور جعلسازی کا سہارا لیتے ہیں۔