داعش زوال پذیر ہے

#image_title

داعش زوال پذیر ہے
آٹھواں حصہ

طاہر احرار

 

شام میں ایران اور داعش کی مشترکہ کارروائیاں!

جب داعشی خوارج شام میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ان کا بہت خیر مقدم کیا کیونکہ انہوں نے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ شامی حکومت کے جبر و تشدد سے ان کو نجات ملے گی۔

کچھ عرصہ سے وہاں کی مجاہد تنظیموں نے بھی ان کی مدد کی۔

آخر کار انہیں داعش کی حقیقت کا پتہ چلا اور مجاہدین ان سے الگ ہو گئے، عام لوگوں کو بھی پتہ چلا کہ انہوں نے دشمن کے منہ میں خود کو ڈال دیا ہیں۔

سنی علاقوں میں داعشی خوارج نے ایسی نمائشی جنگیں لڑی کہ اس سے سنی لوگوں کی پوری آبادی، مکانات اور سرمائے جلس گیے۔

وہ ایک یا دو فائر کرتے اور پھر روسی طیارے آ کر علاقے پر مکمل بمباری کرتے، سینکڑوں عورتیں، بچے اور بوڑھے لوگ مارے جاتے۔

شامی حکومت کے مظالم کو روکنے اور انہیں سنی علاقوں سے نکالنے کے بجائے داعش نے ھیئۃ تحریر الشام، جبہۃ النصرہ کے ساتھ لڑنا شروع کر دیا، حالانکہ یہ دو فقط وہ تنظیمیں ہیں جو سنیوں کے زخموں کی مرہم پٹی کرسکتے تھے اور یہی اہل سنت کی عزت کے محافظ تھے۔

داعش نے حال ہی میں شام میں ایک اور خطرناک خونی پالیسی شروع کی ہے۔اب اس نے شامی ایس ڈی ایف، روس اور ایران کے مشترکہ مفاہمت سے فیصلہ کیا ہے کہ دیر الزور کے وہ علاقے جن کو وہاں کے لوگوں نے اپنے اتحاد سے محفوظ کیے تھے، ان میں داعشی خوارج داخل ہو جائے، ان سے لڑائی کرے، مزاحمت کے دوران ان کے گھروں کو آگ لگا دے اور باقی حصوں کو تباہ کر دے۔

ابھی وہاں کے قبائل بھی داعش کے خلاف اٹھے ہیں، گروپس بنا رہے ہیں، اور عہد کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو داعش کے جھنڈے تلے بشار الاسد کے مظالم سے محفوظ رکھیں گے، اور داعش کو ان علاقوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

اس وقت ایران کی قیادت میں داعش اور قبائلی عوام کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے۔

(و إن الله علی نصرهم لقدير)