داعش زوال پذير ہے

#image_title

داعش زوال پذير ہے

نواں حصہ

طاہر احرار

روز‌انہ ہم ایسی خبروں کے گواہ ہیں کہ ملت اسلامیہ عظیم فتنے سے آزاد ہو کر اتحاد و اتفاق کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔

چند روز قبل عراق کے کردستان علاقے میں انٹیلی جنس ایجنسی نے داعش کے مالیاتی امور کے منتظم کو گرفتار کیا تھا، جو انتہائی چالاک اور داعش کے لیے غیر ملکی اور ملکی تعاون کو منظم کرتا تھا۔ یہ داعش کے لیے ایک شدید دھچکا تھا، یہ ایسی حالت میں کہ داعش کے سابق رہنما اور بانی یکے بعد دیگرے مارے جا رہے ہیں، گرفتار ہو رہے ہیں یا اپنی سرگرمیاں ترک کر رہے ہیں۔

اس سے ان کے درمیان اختلافات اور لوگوں میں ان کی نفرت کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اسی طرح عراق میں داعش کے ایک بریگیڈ کے کمانڈر کو بھی گرفتار کیا گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو داعش کی طرف متوجہ کرنے اور خلافت کے نام پر لوگوں کو جنگ کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار تھا۔

عراق اور شام میں داعش کی ایک طرف اسرائیل کے ساتھ وعدے ہیں اور اب انہوں نے ایران سے دوستی شروع کر دی ہے جسے خلیجی ممالک میں ناکام پالیسی کہا جاتا ہے۔ اب وہ اپنی بقا کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔

ان دنوں کی ایک اور دلچسپ خبر یہ تھی کہ افغانستان کے صوبے بدخشاں میں دھماکوں، قتل اور کار بم دھماکوں کے ذمہ دار بارہ خوارج گرفتار کر لیے گئے۔

خارجی مشران نے بھی ایک بیان میں اعتراف کیا کہ افغانستان میں ان کے غلاموں پر اس طرح زمین تنگ کی گئی کہ انہیں اٹھنے کا موقع نہیں مل رہا۔

افغانستان پر قبضے کے دوران چند نوجوان صرف اللہ پر بھروسہ کرکے کھڑے ہوئے، عوام نے انہیں گلے لگایا اور قربانیاں دیں، تو انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی۔ دوسری طرف سپر پاور کی کچھ کٹھ پتلیاں ایک نئے قائم ہونے والے نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئیں، قوم نے ان کے ساتھ نہیں دیا، انہیں نفرت دی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اب صرف اس کا نام رہ گیا ہے اور پوری اسلامی دنیا میں لوگ ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔