داعش زوال پذير ہے۔

#image_title

داعش زوال پذير ہے۔

پانچواں حصہ

 

طاہر احرار

 

پانچواں: بعض ایشیائی ممالک اور افریقہ میں داعش کی شاخیں سوريائی داعش سے الگ ہو کر اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ان کے اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب داعش نے اپنے نئے پانچویں متنازعہ (نام نہاد) خلیفہ کا اعلان کیا ہے ۔

ان محکموں کا کہنا ہے، کہ نئے خلیفہ کے انتخاب میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور وہ اپنے خلیفہ کو نہیں جانتے۔

اسی طرح سوریائی داعش کا تمام محصولات پر کنٹرول ہے اور وہ ملک کے اندر یا باہر دیگر شاخوں کو مالی مدد فراہم نہیں کرتی ہے۔

 

چھٹا: عراقی رہنماؤں نے اپنے ملک کو جنگ کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور اب سوریا بھی اس منصوبے کا شکار ہو چکا ہے، لیکن سوریائی اب صرف لوگوں کو عراق میں لڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور سوریا جو کہ داعش کا مرکز کہلاتا ہے، ہار چکا ہے۔ جنگ میں دلچسپی کم ہوتا جارہا ہے، جسے داعش کے اندر سب سے بنیادی اور شدید اختلاف کہا جاتا ہے۔

 

ساتواں: داعش کا میڈیا مبہم معلومات پھیلا رہا ہے جو کہ حقیقت سے بعید ہے اور یہی تنظیم میں انتشار کا باعث ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان کی باتوں اور ویب سائٹس پر کوئی اعتبار نہیں ہے ، ٹویٹر پر ان کے چند دوست لوگوں کے رد و بد اور گالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کی ایک اچھی مثال ہے؛ ان کے رہنما الحسینی مارے گئے۔

ترکی نے چند ماہ قبل ان کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے قتل کی جگہ اور معیار کا انکشاف کیا تھا لیکن داعش خاموش رہی۔

آخر کار انہوں نے مجبوری میں اس کے قتل کی تصدیق کی اور الزام تحریر الشام پر ڈال دیا جو حقیقت سے بہت دور تھا۔

خود تحریر الشام کے ترجمان نے بھی اس کے جنگ میں مارے جانے کی تردید کی ہے۔