داعش حماس کے بانی شیخ احمد یاسن رحمہ اللہ کو مرتد گردانتی ہے

#image_title

داعش حماس کے بانی شیخ احمد یاسن رحمہ اللہ کو مرتد گردانتی ہے

مقتصد سارگر

 

۲۰۲۳ء میں العزائم میگزین کے ۳۳ویں شمارے میں ’اخوان الشیاطین‘ کے عنوان کے تحت داعش نے حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کو مرتد قرار دیا تھا۔

شیخ احمد یاسین رحمہ اللہ یکم جنوری ۱۹۳۷ء کو فلسطین کے علاقے الجورہ میں پیدا ہوئے، وہ اسلامی تحریک ’حماس‘ کے بانی تھے، انہوں نے فلسطین میں اسرائیل کے خلاف ایک منظم تحریک اس حال میں شروع کی کہ وہ ایک آنکھ سے نابینا اور بدن سے مفلوج تھے۔

۲۲ مارچ ۲۰۰۴ء کو فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت حاصل کی۔ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے ان کی شہادت کے بعد ایک آڈیو پیغام میں ان کے لیے رحم و مغفرت کی دعا کی۔

شیخ عبد اللہ عزام رحمہ اللہ نے ۱۹۸۸ء میں حماس کی اسلامی تحریک کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ وہ (حماس) لوگوں کو توحید کی طرف لا رہے ہیں، کیونکہ حماس سے قبل تمام فلسطینی مسلح گروہ سیکولر یا کمیونسٹ نظریات کے حامل تھے۔

خوارج ہمیشہ سے مسلمانوں پر مرتد کا لیبل لگاتے رہے ہیں اور کفار کے معاملے میں نرمی سے کام لیتے ہیں۔