داعش: تاریخِ اسلام کا تاریک ترین باب

حماد شیرزاد

تاریخِ اسلام میں مسلمانوں کے نام پر بہت سے ایسے گروہ اور جماعتیں گزری ہیں جنہوں نے تکفیر سے لے کر نسل کشی اور قتل عام تک کسی چیز سے دریغ نہیں کیا۔

تاریخِ اسلام میں ان سارے گروہوں میں بدترین گروہ قرامطہ تھا جو کہ باطنی تھے، اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کعبہ پر قبضہ کیا اور اسلام کے نام پر بچوں اور جانوروں تک کو نہیں بخشا۔

انہوں نے تاتاریوں کا راستہ روکتے اور ان سے جنگ کرنے کی بجائے مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی اور جہاں بھی گئے، اس جگہ کو تباہ و برباد کر دیا اور وہاں قتلِ عام کیا۔

ان کی وحشت اور کفر کے ثبوت کے لیے یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ ۳۱۷ ہجری میں قرامطہ نے ابو طاہر قرامطی لعنۃ اللہ علیہ کی قیادت میں حج کے موسم میں مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا۔

ابو طاہر قرامطی کعبہ کے دروازے پر کھڑا ہو کر بولا:

لمن الملک الیوم؟

’’آج کے دن بادشاہ کون ہے؟‘‘

جب کسی نے جواب نہیں دیا تو بولا:

انا الله انا اخلق و افنيهم انا.

’’میں اللہ ہوں، میں پیدا کرتا ہوں اور میں فنا کرتا ہوں۔‘‘ (نعوذ باللہ)

پھر اس نے اپنے جنگجوؤں کو آواز دی کہ کعبہ کا دروازہ اکھاڑ پھینکیں۔ پھر کعبے کا غلاف اتار دیا اور حجاج اور طواف کرنے والوں کی طرف منہ کر کے چیخا:

اين طير الابابيل؟

’’ابابیل کہاں ہیں؟‘‘

اين حجارة من سجيل؟

’’پتھر کی کنکریاں کہاں ہیں؟‘‘

جب لوگ خاموش ہو گئے، ابو طاہر قرامطی نے اپنے سپاہیوں کو آواز دی اور ان سے کہا: ان سب کو قتل کر دو، کیونکہ یہ مجھے (نعوذ باللہ) اپنا خدا اور سردار نہیں سمجھتے۔ اور اس طرح حرم کے اندر طاہر قرامطی کی فوج نے تیس ہزار حجاج مرد و زن اور بچوں کو ایک ہی دن میں شہید کر دیا۔

حوالہ:

  • الحجر الأسود تاريخ و أحكام، ۱۴ أپريل ۲۰۲۰.
  • البداية والنهاية، جلد ۱۱، دخلت سنة سبع عشرة وثلاثمئة
  • الزركلي, خير الدين ( ۲۰۰۲ م). الأعلام – جلد ۳ (پانچواں ایڈیشن). دار العلم للملايين بیروت. صفحة ۱۲۳.
  • تحفة الراكع والساجد بأحكام المساجد (پہلا ایڈیشن). المراقبة الثقافية، کويت. صفحة ۸۸.
  • البداية والنهاية / جلد ۱۱ / ثم دخلت سنة تسع وثلاثين وثلاثمئة.

میں نے اس تاریخی واقعہ کا اس لیے ذکر کیا کیونکہ اگرچہ قرامطہ باطنی گروہ تھا، لیکن خود کو دیگر سے بہتر مسلمان گردانتا تھا، آج کے دور میں داعش ایسا واحد گروہ ہے جو خود کو دیگر سے بہتر، اسلاف کا وارث اور سچا مسلمان کہتا ہے اور وہ شخص جو ان کے گروہ کو اپنی جماعت اور ان کے سربراہ کو اپنا سردار تسلیم نہیں کرتا اور ان سے بیعت نہیں کرتا، ان کے نزدیک وہ کافر ہے اور ان کا قتل اس طرح واجب ہے جیسے ابو طاہر قرامطی نے کعبہ کے دروازے پر اپنے سپاہیوں سے تیس ہزار مسلمان عورتوں اور بچوں کے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔

شاید کہ کوئی کہے کہ داعش نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔

داعش افغانستان، عراق، شام اور لیبیا میں امریکہ اور نیٹو سے لڑنے کی بجائے مسلمانوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

داعش نے قرامطہ کی وہی تاریخ دہرائی ہے کہ جنہوں نے تاتاریوں سے جنگ کرنے کی بجائے مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کر دیا، اسی طرح داعش نے امریکہ اور نیٹو سے جنگ کرنے کی بجائے ان مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی جو امریکہ اور نیٹو کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔

داعش نے شام، لیبیا، عراق اور افغانستان میں وہ کچھ کیا کہ جو چوتھی صدی ہجری میں قرامطیوں نے کیا، نہ ہی بچوں کو چھوڑا، نہ مساجد کو، نہ عورتوں کو، نہ بوڑھوں کو اور نہ ہی قبروں کو۔

داعش نے شام اور عراق میں مسلمانوں کی قبروں کو مسمار کیا، مساجد کو تباہ کیا اور وہاں کی عورتوں کو لونڈیاں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔

اسلام کی پوری تاریخ میں ایسا تاریک باب نہ پہلے گزرا ہے اور نہ دوبارہ آئے گا!