داعش بمقابلہ حماس

#image_title

داعش بمقابلہ حماس

صلاح الدین (ثانی)

 

ہم بارہا کہتے آئے ہیں کہ داعش امریکہ اور غاصب صیہونی یہودیوں کے اجرتی غلام اور مزدور ہیں جو ’اسلامی خلافت‘ اور ’دولتِ اسلامیہ‘ کے جھوٹے نعروں اور پراپگینڈے سے امت مسلمہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

در حقیقت داعش ایک اسلامی ریاست نہیں بلکہ صیہونی و اسرائیلی ریاست ہے، جو اسلامی خلافت کا نام استعمال کرتی ہے۔

وہی داعش جو خود کو اسلام کے حقیقی محافظین اور قابل فخر ابطال کہتی ہے، وہ حماس کے سرفروش مجاہدین کو مرتدین، جاسوس اور گمراہ کہتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے سے ان کی تکفیر کرتے ہیں۔

داعشی خوارج کی جانب سے اسرائیلی قبضے کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے کبھی یہودیوں کے خلاف کوئی ردّ عمل ظاہر کیا ہو۔

داعشی خوارج امت کے سامنے یہ بہانہ پیش کرتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف اکیلے جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ تو حماس کا گروپ یا فلسطین کی غیور قوم جس نے آج تمہارے یہودی آقاؤں کی سرزمین پر حملہ کیا ہے، ان کی پشت پر کون سی عالمی طاقت کھڑی ہے؟ کوئی بھی نہیں!

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین میں قابض یہودیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ان کے پاس فرار کو کوئی راستہ نہیں ہے۔

داعش جو خلافت کا دعوی کرتی ہے، اسے تو فوری طور پر اپنے لشکر فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی مدد و نصرت کے لیے بھیجنے چاہیے تھے۔ باقی سب تو چھوڑیں، داعش کے کسی میڈیا نے یا داعش کے ترجمان نے فلسطین کے با برکت غزہ کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

اب تو پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ داعش اسرائیل کا ایک سرکاری منصوبہ ہے اور حماس کے مخلص مجاہدین کی تکفیر کرنے اور انہیں بدنام کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔

داعش کے سربراہ ابو حفص اسرائیلی کے دل کو صبر اور اس کے آقاؤں کی فلسطینی مسلمانوں کے ہاتھوں موت کے لیے دعا گو ہوں۔

اللہ تعالیٰ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو فتح اور کامرانی عطا فرمائے۔

آمین