داعش اور پاکستان ایک سکے کے دو رخ

تحریر: احسان اللہ احسان

#image_title

عراق اور شام میں داعش کے ظہور نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے جس سے افغانستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اس جدید خارجی فتنے کے اثرات یہاں بھی محسوس کئے جانے لگے، کچھ لوگ مسلکی بنیادوں پر ان کے ساتھ شامل ہوئے تو ایک بڑی تعداد ان کی پراپیگنڈہ ویڈیوز سے متاثر ہوکر ان کے دھوکے میں آگئے اور اپنا ایمان اور آخرت تباہ کر بیٹھے۔

داعش کے وجود کی بنیادیں ہی مصنوعی تھی اور انہیں بڑا بنانے میں ’’نادیدہ قوتوں‘‘ کا بڑا کردار تھا، ایک طرف اس تنظیم کے خلاف جہاں عسکری کارروائی کی بات کی جاتی رہی تو دوسری طرف انہیں سپیس دیکر انہیں مواقع فراہم کئے گئے ۔

داعش نے خراسان یعنی افغانستان کے لیے اپنی ولایت کا اعلان کیا اور پھر اس برائے نام خلافت کی ولایت نے افغانستان میں ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے کہ معاصر تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملے گی، جس کی وجہ سے جہاد اور مجاہدین سے محبت کرنے والی افغان قوم نے انہیں مسترد کر دیا۔ مسترد تو انہوں نے ہونا ہی تھا کیونکہ ان کا وجود ہی حقیقی نہیں تھا، انہیں امارت اسلامیہ کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کے توسط سے لانچ کیا تھا مگر یہ لانچنگ کامیاب ثابت نہ ہو سکی ۔

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ داعش خراسان کے پہلے امیر حافظ سعید اورکزئی نے داعش خراسان کے لیے ولایت کے اعلان سے پہلے پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کے افسران کے ساتھ اورکزئی ایجنسی کے ایک علاقے ڈھبوری میں ملاقاتیں کیں، مذاکرات ہوئے اور باقاعدہ معاہدہ تشکیل پایا ۔

اس معاہدے میں طے پایا کہ داعش پاکستان کے لیے ولایت یا تنظیمی سیٹ اپ کا اعلان نہیں کرے گا، وہ اپنا سیٹ اپ افغانستان تک محدود رکھے گا اور ان کی کارروائیوں کا محور بھی افغانستان ہی ہوگا، پاکستان میں وہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے جس کے بدلے پاکستان انہیں مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کریگا ۔

داعش خراسان کی قیادت کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین کو توڑ کر اپنے ساتھ ملائیں اور انہیں پاکستان کے خلاف جنگ کرنے سے روک کر ان کی جنگ کا رخ افغانستان کی طرف موڑ دیں گے۔

کوئی بھی صاحب عقل اگر ایک منٹ کے لیے غور کرے تو سمجھ آجائے گی کہ داعش خراسان کا امیر پاکستانی، ان کے جنگجوؤں کی اکثریت پاکستانی مگر ان کی ولایت خراسان کیوں؟ یہ صاحبان تو تحریک طالبان پاکستان کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں اسلامی نظام کی نفاذ کے لیے لڑ رہے تھے پھر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے افغانستان میں لڑنے کا فیصلہ کیا؟ کیا پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہو گیا تھا؟

یہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور فریقین یعنی داعش خراسان اور پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں نے ایک دوسرے کے ساتھ خوب وفاداری نبھائی، جس کا میں نے عملی مشاہدہ بھی کیا ۔

سال ۲۰۱۸ء کو جب میں پاکستانی حکومت کی حراست میں تھا تو مجھے کہا گیا کہ آپ ہمارے ساتھ داعش کے ان جنگجوؤں کی شناخت کے لیے چلیں جو افغانستان کے سرحدی ضلعوں نازیان اور شینواری میں امارت اسلامیہ کے داعش کے خلاف سخت آپریشن کہ وجہ سے فرار ہوکر پاکستان انٹیلی جنس اداروں کے پناہ میں آگئے تھے اور انہیں خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا، جن کی تعداد چالیس تھی مگر مجھے بتایا گیا کہ باقی گروپس کو دیگر مختلف گیسٹ ہاؤسز میں رکھا گیا ہے ۔

ایک پاکستانی افسر کے بقول افغانستان میں ان کے لیے حالات بہت سخت ہوگئے تھے، یہ بھوکے اور خستہ حال تھے، ہم نے سرحد پر انہیں روکا مگر ان میں مزید لڑنے کی ہمت نہیں بچی تھی اس لیے انہیں یہاں لے کر آگئے اور اب یہ ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ویسے تو پاکستان کے ادارے کسی عام انسان کو بھی دہشت گرد بنا کر لمبی لمبی پریس کانفرنسز کرتے ہیں اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر داعش کے سینکڑوں خطرناک جنگجوؤں کی گرفتاری کے معاملے پر سالوں گزرنے کے بعد بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور انہیں گیسٹ ہاؤسز میں رکھا ہوا ہے۔ ان سے شاید دوبارہ کسی وقت کام لینے کی خاطر رکھا ہوا ہوگا۔

اس سب سے واضح ہوتا ہے کہ داعش خراسان کا پروجیکٹ، امارت اسلامیہ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا مگر یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے مخلصین کامیاب ہوگئے، آج الحمداللہ افغانستان میں امارت اسلامیہ قائم اور مستحکم ہے مگر چالیں چلنے والے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے مزید چالیں چلانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالی کی مدد اپنے نیک بندوں کیساتھ ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کو دن دگنی رات چگنی ترقی دیں اور اس کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رکھیں۔ آمین