داعش اور پاکستان؛ حقیقت کیا ہے ؟

#image_title

انجینئر عمیر

افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے سے قبل کہا جاتا تھا کہ افغانستان میں دس سے زائد دہشت گرد گروپس کام کر رہے ہیں لہٰذا صرف طالبان کے ساتھ مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، یہ باتیں زیادہ تر وہ سیاست دان کرتے تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو جائے۔

 لیکن یہ بات طے تھی کہ طالبان کے علاوہ داعش بھی افغانستان میں سرگرم تھی، لیکن بعض سیاسی شخصیات بار بار کہا کرتے تھے کہ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل داعش کی کارروائیوں کے لیے زمینہ سازی کر رہی ہے۔

 یہ بات اس وقت واضح ہوئی جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا، داعش کے بڑے ٹھکانے کابل اور ننگرہار میں موجود تھے، طالبان نے داعش کے خلاف واضح اور سخت موقف اپنایا اور ان کے ٹھکانوں پر حملے کیے یہاں تک کہ داعشیوں کے لیے رہنے کی جگہ باقی نہیں رہی اور انہوں نے ہمسایہ ممالک کی طرف رخ کیا۔

ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہمارے خطے کے کچھ لوگوں نے جن پر داعش کے الزامات تھے، یکے بعد دیگرے پاکستان کا راستہ اختیار کیا۔

 جب افغانستان پر طالبان کی حکومت آئی تو بعض ہمسایہ ممالک طالبان کی حکمرانی سے خوش تھے جن میں پاکستان سر فہرست تھا، پاکستان کے وزارتِ خارجہ کے حکام نے بین الاقوامی کانفرنسوں میں افغانستان کو تسلیم کرنے اور افغانوں کے اثاثوں پر سے پابندی ہٹانے کے حوالے سے بات چیت کی۔

جی ہاں! اُس وقت بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا ورکرز نے ان اقدامات کا منفی جائزہ لیا اور اس کو پاکستان کی چال اور سیاسی گیم ٹھہرایا، لیکن یہ معاملہ اس وقت واضح ہوا جب امارت اسلامیہ نے پاکستانی حکام کے مطالبات کو واضح طور پر رد کردیا، 

 

پاکستانی حکام نے بہت کوشش کی کہ طالبان کو آپنے منفی مطالبات ماننے پر آمادہ کریں، بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا، ماضی کے بر خلاف بار بار عالمی بین الاقوامی کانفرنسوں میں افغانستان کو دہشتگردی کا مرکز ٹھہرایا، ہر طرح کوشش کیا کہ عالمی طاقتوں کو کسی سیاسی رد عمل پر مجبور کریں، لیکن چونکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی سیاسی حیثیت کھو چکا ہے اس لیے اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔۔

جی ہاں؛ پاکستانی حکام بالخصوص پاکستانی انٹیلی جنس ادارے پھر بھی پرسکون نہ رہ سکے بلکہ انہوں نے طالبان کے عسکری مخالفین خصوصا داعش کے افغانستان منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا، سرحدی علاقوں میں انہوں نے افغانستان کی سرحدی افواج پر حملے کیے، اور بار بار کارروائیاں کیں اور گولیاں چلائیں، تاکہ منتقلی کے لیے ایک اچھا موقع ہاتھ آجائیں لیکن امارت کے حکام نے بہت حکمت عملی سے ان کارروائیوں اور انٹیلی جنس پلان پر پوری توجہ مرکوز رکھی، چنانچہ سرحدی علاقوں میں نئی پوسٹیں اور تعمیرات کی تعمیر کا حکم دیا۔

جب یہ سازش ناکام ہوئی تو پاکستانی حکام نے اچانک افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا، افغان حکام نے یہ محسوس کیا کہ شاید اس بہانے حکومت مخالفین کو افغانستان انتقال کیا جائے، اس لیے انہوں نے تمام مہاجرین کی بائیو میٹرک کرنے کا عمل شروع کر دیا اور بیشتر مشتبہ افراد کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیا۔

جی ہاں! یہ خدشات ویسے نہیں تھے، بہت سے ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جو نظام کے خلاف تربیت یافتہ تھے اور ان کے مخصوص مقاصد تھے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے بیانات غلط نہیں تھے، انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اس کوشش میں ہے کہ داعشی جنگجووں کو افغانستان میں داخل کریں۔

طالبان کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے مجھ سے اس کی تصدیق کی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ طالبان جو سخت رد عمل کا اظہار نہیں کرتے، یہ ان کی معتدل سیاست کی نشاندھی کرتا ہے کہ وہ تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، جو افغانستان اور تمام ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔

پاکستان نے طالبان کے بارے میں اپنی امید کو اتنی گہری اور حساس دشمنی میں کیوں بدل دیا!؟

 اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمارے اگلے تجزیاتی مضمون کے لیے انتظار فرمائیں۔