داعش اور مسئلۂ فلسطین

#image_title

داعش اور مسئلۂ فلسطین

خادم شیرزاد

 

ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر قیامت ڈھا رکھی ہے۔

چین اور روس سے لے کر ایران اور دیگر کئی کافر ممالک نے اسرائیل کے اس ظلم و بربریت کی مذمت کی ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ اور یہود کی اپنی بنائی ہوئی اقوام متحدہ نے اسرائیل کے ان کرتوتوں اور نسل کشی کی مذمت کی ہے۔

اسلامی ممالک میں بعض نے سیدھا سیدھا اور بعض نے بالواسطہ اس جنگ کو روکنے کا کہا ہے۔ جبکہ برطانیہ، فرانس، امریکہ، جرمنی، جاپان اور چند دیگر ممالک نے اس جنگ کی حمایت کی ہے۔

دوسری طرف داعش وہ گروہ ہے جو خود کو باقی سب سے اچھا مسلمان، اسلام کا محافظ اور خلافت کا دعویدار گردانتا ہے، اس نے اب تک فلسطین کی جنگ کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کسی ردّ عمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کرے گا، کیونکہ داعش کا عقیدہ اور نظریہ یہ ہے کہ ان کے علاوہ ہر مسلمان جو چاہے کلمہ گو ہی کیوں نہ ہو لیکن ان کے راستے اور نظریے پر نہیں ہے، وہ یا تو مسلمان ہی نہیں ہے اگر ہے تو صرف نام کی حد تک۔

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ:

داعش فلسطینیوں کا دفاع کیوں نہیں کرتی؟

داعش اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کرتی؟

داعش صرف ان لوگوں سے جنگ کیوں کرتی ہے جو امریکہ اور یورپ کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں؟

داعش مسلمانوں کو قتل کیوں کرتی ہے؟

داعش اسرائیل کے ظلم اور بربریت پر خاموش کیوں ہے، جبکہ وہ خود کو خلافت کا دعویدار کہتی ہے؟

یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جو ہم ہر روز سنتے ہیں یا نوجوان سوشل میڈیا پر اور ایک دوسرے سے ملاقات میں پوچھتے رہتے ہیں۔

ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس کا جواب خود داعش یا دیگر کے منہ سے دیں۔

 

ایک بار داعش کے مقتول سربراہ ابو بکر بغداری نے کہا تھا:

ہم فلسطین کو یہودیوں کے قبرستان میں بدل دیں گے، لیکن اس کی تقریر ختم ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ نزال النصیری نامی داعش کے اس وقت کے ترجمان نے کہا:

مسئلۂ فلسطین اور فلسطین کی آزادی داعشی خلافت کی ترجیحات میں سے نہیں ہے۔

 

نضال النصیری نے بالکل ٹھیک کہا کیونکہ :

مسئلۂ فلسطین ان کی ترجیحات میں سے نہیں ہے بلکہ داعش کی ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے نزدیک منافق اور مرتد کو کافروں اور یہودیوں سے پہلے قتل کیا جائے۔ کیونکہ داعش کا ماننا ہے کہ جب تک ہم منافقین اور مرتدین کو قتل نہیں کریں گے ہم کفار تک نہیں پہنچ سکتے۔

اور پھر معاملہ یہ ہے کہ داعش کی نظر میں ہر وہ مسلمان جو داعش کے خود ساختہ خلیفہ کی بیعت نہیں کرتا وہ منافق اور مرتد ہے۔

داعشی خلافت کا عقیدہ ہے کہ داعش کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان نہیں ہے۔

ایک بار اسرائیلی صحافی یورگن ٹوڈنفر نے کہا تھا:

اگر داعش مشرقی وسطیٰ پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسرائیل کی بجائے یورپ کا رخ کرے گی۔ اس صحافی کی بات اس لیے قوی اور درست ہے کیونکہ یہ بات اسرائیل کے سابق وزیر موشیہ یعلون (موسیٰ) کی تقریر کے بعد اور بھی قوی اور قابل اعتماد ہو جاتی ہے، جس نے کہا:

ایران ہمارے لیے داعش سے زیادہ خطرناک ہے اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کون بہتر ہے تو میں اسے واضح کہہ سکتا ہوں کہ داعش ایران سے بہتر اور ہمارے حق میں ہے۔

ایسی کئی دستاویزات اور واقعات بار بار سامنے آئے ہیں کہ داعش اور اسرائیل کے درمیان خفیہ روابط اور تعلقات ہیں اور اس بات کو اس سے تقویت ملتی ہے کہ داعش نے ساری دنیا کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے لیکن اس نے آج تک اسرائیل کے بارے میں کوئی سرکاری مؤقف یا بیان نشر نہیں کیا۔

اردن کے سابق وزیر ممدوح العبادی نے ایک دہائی قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا:

یہود اور دہشت گردی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور یقین رکھیں کہ دہشت گرد داعش کبھی بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

ممدوح العبادی کی بات کو ایک دہائی گزر چکی لیکن داعش بجائے اس کے کہ اسرائیل پر حملہ کرتی، عراق اور شام میں مسلمانوں پر قیامت برپا کردی اور بجائے شام کی سرحد سے متصل اسرائیل جانے کے دور افریقہ اور امریکہ تک جا پہنچی۔ فرانس کے ۲۴ ٹی وی نے ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو ایک رپورٹ شائع کی کہ اس وقت کے اسرائیلی وزیر داخلہ آریہ درعی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا:

داعش کے صفوں میں بیس اسرائیلی شہری داعش کے ساتھ ہیں اور شام اور عراق میں جنگ کرتے ہیں، اسرائیلی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ان بیس اسرائیلی شہریوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے۔

اس کے ساتھ دوسری خبر یہ تھی کہ روس سے درجنوں یہودی داعش میں شمولیت کے لیے عراق اور شام گئے اور ان کے شانہ بشانہ جنگ کی۔

قارئیں اگر تھوڑی ہمت کریں اور گوگل پر سرچ کر کے ۲۰۱۴ء کی خبریں نکالیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ داعش کے درجنوں زخمیوں کو علاج کے لیے اسرائیل لے جایا گیا اور وہ وہاں کے ہسپتالوں میں مہینوں زیر علاج رہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مبارک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا:

وہ مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور انہیں قتل کریں گے اور کفار اور بت پرستوں کو زندہ چھوڑ دیں گے۔ بالکل اسی طرح داعش عراق اور شام میں بجائے اس کے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے جنگ کرتی اس نے ان مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے تھے۔

اس طرح وہ بیچارے مجاہدین جو صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے جنگ میں مصروف تھے وہ دو طرفہ جنگ میں پھنس گئے اور اس طرح داعش نے امریکہ اور یورپ کا کام آسان کر دیا۔

اسی طرح افغانستان میں طالبان امریکہ اور نیٹو سے جنگ میں مصروف تھے، خلافت کے یہ جھوٹے دعویدار بجائے اس کے کہ امریکہ اور نیٹو سے جنگ کرتے، انہوں نے طالبان کے خلاف اپنا جھوٹا جہاد شروع کر دیا اور انہیں مرتد، فاسق اور… طرح طرح کے القابات سے نوازا۔

اس طرح کے درجنوں دلائل اور باتیں ہیں کہ جو ثابت کرتی ہیں کہ داعش بلیک واٹر جیسا امریکہ اور اسرائیل کا بنایا ہوا ایک منصوبہ ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ بلیک واٹر یہود و نصاریٰ سے مل کر بنی ہے جب کہ داعش کو نام کی حد تک مسلمان کہا جاتا ہے۔

داعش موجودہ تاریخ اور پچھلی دو صدیوں میں بالکل وہی قرامطیوں کا گروہ ہے کہ جس کے بنائے جانے کا واحد مقصد مسلمانوں اور اسلام کو تباہ کرنا اور اسلام کے نام لیواؤں کو قتل کرنا اور بدنام کرنا ہے۔