داعش اور دیگر جہادی تنظیموں کے درمیان تنازع

#image_title

داعش اور دیگر جہادی تنظیموں کے درمیان تنازع

پہلی قسط

ذوالفقار

ٹھیک ۱۹ اپریل ۲۰۱۴ء بروز پیر، دولت اسلامیہ نے باضابطہ طور پر اپنے سربراہ ابو بکر بغدادی کا بطور خلیفہ اعلان کیا۔

عرب بہار کے بعد شام میں بشار الاسد کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اس خوف سے کہ اس کا انجام بھی، قذافی، زین العابدین اور حسنی مبارک جیسا نہ ہو جائے، بشارالاسد نے ابتدا ہی سے مظاہرین کو دبانا شروع کردیا، یہاں تک کہ احتجاج مسلح بغاوت کی شکل اختیار کر گیا اور مظاہرین نے ہتھیار اٹھا لیے۔

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے دولت اسلامیہ کی قیادت کو حکم بھیجا کہ شامی عوام کی حمایت کے لیے مجاہدین کے ایک گروپ کو شام بھیجا جائے۔ دولتِ اسلامیہ نے ابو محمد جولانی کی قیادت میں شامی مجاہدین کے ایک گروپ کو وہاں روانہ کیا اور انہوں نے بہت کم عرصے میں بشار کی حکومت کا اہم ترین علاقوں سے صفایا کر دیا۔ اس گروپ کو شامی مجاہدین کی مدد و تعاون کے لیے بھیجا گیا تھا، جس کا باضابطہ طور پر جنوری ۲۰۱۲ء میں اعلان کیا گیا ۔

ابو محمد جولانی اور جبہہ النصرہ نے بہت کم عرصے میں عالمی طور پر اپنا نام بنا لیا اور دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔ دوسری طرف شامی عوام نے جبہہ النصرہ کے معاون کردار کا خیر مقدم کیا، یہ وہ چیز تھی جس سے دولت اسلامیہ کے بعثی جرنیل خوفزدہ ہوگئے۔ کیونکہ ایک طرف تو خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے مالی وسائل دولت اسلامیہ سے جبہہ النصرہ کی طرف منتقل ہو رہے تھے، اور دوسری طرف عراقی ڈکٹیٹر جرنیل جولانی کے حوالے سے اس بات سے بھی ڈرتے تھے کہ یہ دولہ سے بغاوت نہ کر دے ۔ اس معاملے میں حجی بکر نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

دولت اسلامیہ کی طرف سے کسی بھی عراقی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ جبہہ النصرہ میں کام کرے اور دولہ کے تمام ارکان میں یہ اعلان کر دیا گیاکہ جو بھی جہاد کے لیے شام جائے گا تو اسے دولتِ اسلامیہ سے خارج قرار دے دیا جائے گا۔

جبہہ النصرہ میں دنیا بھر سےمجاہدین کی آمد سے بعثی جرنیل ہل کر رہ گئے اور حجی بکر نے بغدادی کو مشورہ دیا کہ وہ ایک صوتی پیغام میں جبہہ النصرہ کو دولتِ اسلامیہ کی شاخ قرار دینے کے لیے جولانی سے کہے۔ لیکن جولانی نے جواب میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے لیے وقت مانگا۔ دہ ماہ گزرجانے کے بعد بھی جولانی نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو بغدادی نے دوبارہ مطالبہ کیا۔ آخر کار جولانی نے جوابی خط میں لکھا: جبہہ النصرہ کی شوریٰ کے ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس گروپ کو دولتِ اسلامیہ کے ساتھ جوڑنا شام کی بغاوت کے مفاد میں نہیں ہے۔

 

(جاری ہے!)