داعش اور حقوقِ نسواں

#image_title

داعش اور حقوقِ نسواں

ڈاکٹر عائشہ خپل واک

 

اسلام ایک جامع دین ہے، ہر کسی کو اس کی تخلیق اور استعداد کے اعتبار سے مناسب حقوق دیتا ہے۔ مغرب عورت کو مطلق العنان آزاد مخلوق کہتا ہے، جو کہ معاشرے کے لیے ایک زہرِقاتل ہے۔ لیکن یہ دعویٰ بھی صرف ان کی باتوں تک ہی محدود ہے۔ اصل میں مغرب میں عورت کے ساتھ بہت کم تر درجے کا سلوک کیا جاتا ہے، اور وہ آزاد نہیں ہوتیں بلکہ اپنے معاش کے حصول کے لیے خود نوکری کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ دوسری طرف نام نہاد خلافت اسلامیہ کے دعویداروں نے ایسے ایسے کام کیے کہ اسلام جیسے مبارک دین کو شدید نقصان پہنچا۔ داعشیوں نے تو ایک ساتھ بیس عورتوں سے بھی شادیاں کیں۔ جس کا دینِ اسلام میں کہیں کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ انہوں نے صرف اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور الہٰی احکامات کی اطاعت نہیں کی۔

دوسری طرف انہوں نے عام عوام ، مردوں اور عورتوں کو غلام بنایا، جو کہ امت میں اجماع کے ساتھ ممنوع ہو گیا تھا، انہوں نے مسلمانوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح کے بغیر زنا کیا، ان کا جو بھی ساتھی مارا جاتا، اس عورت کے ساتھ اس کی عدت مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر نکاح کر لیتے۔ انہوں نے ایسے مسائل پر عمل کیا جو اسلام میں کہیں نہیں ملتے۔

اسی طرح اس ضعیف طبقے کو، جس میں استعداد ہی نہیں، جنگ کے میدان میں اپنے ساتھ لے جاتے اور اپنے ساتھ جنگوں میں شریک کرتے۔ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے مبارک دور میں بھی عورتوں نے جنگوں میں شرکت نہیں کی۔ وہ صرف زخمیوں کا علاج کرتیں اور زخموں پر مرہم رکھتی تھیں۔

نہ صرف عورتوں کے حقوق، بلکہ یہ گروہ منظم طریقے سے دینِ اسلام کے احکامات کو چیلنج کرتا ہے اور ان کی توہین کرتا ہے۔