داعش اور تکفیر کی آخری حد

#image_title

داعش اور تکفیر کی آخری حد

صلاح الدین (ثانی)

 

داعش ایک ایسی شریر اور غیر منطقی خارجی گروہ ہے، جس نے اسلام کا نام لے کر ظلم و بربریت کے وہ بدنما کارنامے سر انجام دئے جس سے اسلام کے سنہری تاریخ داغدار ہوا۔

اور امت مسلمہ کا خون اس بے دردی سے بہایا کہ تاریخ انسانی میں سوائے صلیبیوں اور یہودیوں کے کسی نے ایسے سفاکانہ اور بہیمانہ اعمال نہیں کیے تھے۔

داعش امت مسلمہ میں نفاق کی ایک ایسی خوفناک بیماری ہے جس کا واحد علاج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مقدس کی تعمیل ہے، فرمایا

(لأقتلنھم قتل عاد)

داعش کے پاس تکفیر کے لیے ایک خاص مہر ہے جس کی ایک مثال ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

 

اسلام کے عظیم مفکر شیخ أبو مصعب السوری اپنی کتاب (التجربة السوریة) میں داعشی خوارج کے بارے میں لکھتے ہیں: داعش خوارج ایسے شیطانی جال میں پھنس گئے، اور گم ہو گئے ہیں کہ انہیں صرف خدا کی رحمت ہی نکال سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: جب شیخ الروبیش شہید ہوئے تو مأرب اور صنعاء کے داعشی سربراہ نے شکرانے کے لیے سجدہ کیا،  مجلس میں موجود لوگوں میں سے ایک نے سجدہ کرنے والے کو کافر قرار دیا،

ایک اور جگہ یہ بھی کہا ہے:

ایک دن شام کے داعشی خوارج نے ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی تکفیر کی، اسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک اور گروہ نے شیخ اسامہ تقبلہ اللہ کو بھی کافر قرار دیا، کہ اس نے ملا محمد عمر رحمہ اللہ کی بیعت کی تھی،

 

پھر اسی مجلس میں بیٹھے ایک اور گروہ نے کہا: ملا محمد عمر کافر تھے، لیکن شیخ اسامہ کافر نہیں تھے۔

 

یہ سنتے ہی پہلے گروہ نے دوسرے گروہ کی تکفیر کا اعلان کیا کہ تم اسامہ کے کفر کو کفر نہیں کہتے ہو، تو تم بھی کافر ہو، اس بات پر دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ گئی اور دونوں فریقوں کو اتنا جانی نقصان ہوا، جو حد سے باہر تھا۔

داعش جنگل کے وحشیوں کی طرح ہیں، وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں اور دوسروں سے بھی۔

 

اب کہنا یہ ہے کہ جنگل کے درندوں کی طرح ایک دوسرے کو کھا جانے والا خارجی گروہ کے پیروکار قوم کے لیے ریاست اور خلافت نہیں لا سکتے، بلکہ قوم میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔

 

داعش ایک ایسی گروہ ہے، جن میں سے کچھ تو شیخ اسامہ کو نہیں مانتے، کچھ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کو نہیں مانتے، اور کچھ اسے مانتے ہیں، اور وہ ملا عمر رحمہ اللہ کو لوی ملا صاحب (بڑا مولوی صاحب) کہتے ہیں۔ اور بعض انہیں کافر اور مرتد سمجھتے ہیں۔

 

جنگل کے وحشیوں کو بھی داعشی خوارج پر بہت عزت اور شرف حاصل ہے۔