داعش اور اسرائیل

#image_title

داعش اور اسرائیل
صلاح الدین (ثانی)

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر داعش کے ذریعے سے ایک زبردست اور پیچیدہ کھیل شروع کیا، جس کے مشرق وسطیٰ اور خطے میں بہت برے نتائج برآمد ہوئے۔ اسی افراتفری کی بدولت امریکہ نے خطے میں جنگ جاری رکھی اور اس کی اسلحہ فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی خوب چل رہی تھیں۔
داعش خلافت کے نام پر اسرائیلی مفادات کے لیے پوری احتیاط کے ساتھ پرخلوص انداز میں جنگ لڑ رہی تھی۔
یہ بات آپ کے لیے شاید قدرے حیران کن ہو کہ داعش اسرائیل کا جنگ اور امن کا ساتھی ہے۔
شام اور عراق دونوں ایسے ممالک ہیں جہاں داعش سمیت جہادی گروہوں کی بہت بڑی اور فعال موجودگی تھی۔ لیکن اب نہیں۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت روسی استعمار کے تحت ایک غلام اور اجرتی حکومت ہے۔

شام:
شام میں بشار الاسد کی حکومت سمیت، روسی اور امریکی بھی موجود ہیں لیکن اب تک ہم نے ایسا نہیں سنا کہ داعشیوں نے کبھی امریکی یا روسی کیمپوں پر حملہ کیا ہو۔
کچھ عرصہ قبل داعش نے اسد کے حکومتی قافلے پر حملہ کیا، جس میں ۳۰ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، لیکن کبھی ہم نے یہ نہیں سنا کہ انہوں نے کبھی امریکی کیمپ پر بھی حملہ کیا ہو۔
اسد کے خلاف داعش کی جنگ دراصل اسرائیل کی جنگ ہے، کیونکہ کبھی کبھی اسرائیل بھی اسد حکومت کے خلاف فضائی حملے کرتا ہے جس کا مشاہدہ چند روز قبل ہوا۔
یہ بھی کہتا چلوں کہ داعش شام میں نہ صرف اسد کے خلاف لڑ رہی ہے، بلکہ وہ وہاں القاعدہ کے مجاہدین کے خلاف بھی لڑ رہی ہے، کیونکہ القاعدہ کے مجاہدین اسرائیل کے لیے اسد سے زیادہ خطرناک ہیں۔
عراق
عراق میں بھی امریکی موجود ہیں، لیکن انہیں وہاں داعشی خوارج سے کوئی خطرہ نہیں، حالانکہ یہ داعش کے ظہور کا مرکز ہے۔

فلسطین:
فلسطین صیہونی یہودی غاصبوں کی گرفت میں ہے اور وہاں کے مظلوم مسلمان سخت مشکل حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور مستقل خود مختاری اور آزادی کی امید میں شہید ہو رہے ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر حماس نامی گروپ پہلے بھی اسرائیل کے لیے مسئلہ تھا اور اب مزید بن چکا ہے۔ لیکن داعشی خوارج حماس کو مرتد اور گمراہ گردانتے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل سے مسجد اقصیٰ کا دفاع کر رہے ہیں۔ اور اب جو حماس نے جنگ شروع کی ہے اس نے داعش کو پریشان کر دیا ہے اور اسے اس بات کی فکر ہے کہ کہیں اس کے خفیہ راز افشا نہ ہو جائیں۔
مزید براں اگر اسرائیل اس جنگ میں مزید پسپائی اختیار کرتا ہے، اور علاقے اور شہر حماس کے مجاہدین کے ہاتھ آ جاتے ہیں، تو یہی داعش، شام، عراق، افغانستان اور صومالیہ کی طرح، ارتداد کے بہانے حماس سے بھی جنگ کرے گی اور حماس کو پیش قدمی نہیں کرنے دے گی۔
صومالیہ:
اب صومالیہ کی طرف چلتے ہیں۔ صومالی حکومت کے خلاف لڑنے والے مجاہدین حرکت الشباب جو کہ اکثر اوقات داعش کے خلاف بھی دست و گریبان رہتے ہیں، کیونکہ الشباب کے مجاہدین اقصیٰ کی آزادی کے بہت پیاسے ہیں، اسرائیل کے اشارے پر اور امریکی تعاون کے ساتھ داعش الشباب کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے اور نہیں چاہتی کہ وہاں اسلامی نظام نافذ ہو، کیونکہ اگر صومالیہ کی سرزمین پر الشباب کی حکومت آ جاتی ہے، تو اس خطے میں اسرائیل کے لیے حالات خراب ہو سکتے ہیں، اسی لیے داعش مرتد کے لفظ سے استفادہ کر کے جنگ کرتی ہے اور الشباب کو پیش قدمی کرنے نہیں دیتی۔

افغانستان:
امارت اسلامیہ جو کہ امریکہ اور یہودی غاصبین کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور یہاں ان کی بیس سالہ محنت پر پانی پھر گیا، اس لیے یہ نہیں چاہتے کہ امارت ترقی کرے۔
فتح حاصل ہونے کے ساتھ ہی ان میں سے بہت سے شام کے کیمپوں سے یہاں آگئے اور ایک بڑی جنگ کا منصوبہ بنایا، لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت سے نیست و نابود ہو گئے۔
اب وہ اسرائیلیوں کی طرح صرف مسجدوں کو تباہ کر رہے ہیں لیکن ان سے حساب ضرور لیا جائے گا۔
ان شاء اللہ
پاکستان:
داعش کو تحریک طالبان پاکستان سے بہت امیدیں تھیں کہ وہ ان میں شامل ہو جائیں گے کیونکہ حافظ سعید خارجی جو پاکستانی علاقے تیراہ میں ایک گروپ کا سربراہ تھا، اس نے ابو بکر بغدادی کے اعلان کے فوراً بعد ہی اس سے بیعت کر لی، اپنا علاقہ چھوڑ دیا، اور آ کر ننگر ہار کے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا، اور آخر کار اس کا سر بھی تن سے جدا ہو گیا۔
داعش کا خیال تھا کہ تحریک بھی ان کے نقش قدم پر چلے گی، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوں گے اور ان کا مؤقف ہم سے مختلف ہے تو فوراً ہی ان پر مرتد ہونے کا لیبل لگا دیا۔
داعش + اسرائیل + امریکہ = فساد