داعش اور اسرائیل کے درمیان نیا معاہدہ

#image_title

داعش اور اسرائیل کے درمیان نیا معاہدہ

طاہر احرار

 

میرا اپنی زندگی میں دوسری بار ایسے برے حالات سے سامنا ہوا ہے۔

پہلی بار ۲۰۰۱ء میں جب افغانستان پر امریکی حملہ شروع ہوا۔

اور دوسری بار جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی۔

ہزاروں لوگ شہید ہوئے، ہر خاندان کے پانچ سے دس افراد شہید ہوئے، ان کو دفنانا انسانی بس سے باہر ہے، اور بمباری کی وجہ سے لوگ اپنے شہداء کو دفن بھی نہیں کر سکتے۔

ان شہیدوں میں زیادہ تر بچے، خواتین، بوڑھے اور درجنوں دیگر ہیں۔

غزہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تمام کفار متحد ہیں، اور یک زبان ہیں (اسرائیل کی حمایت میں)۔

دوسری طرف شام میں بشار الاسد کی حکومت ہر روز سنی مسلمانوں کے مرکز ادلب شہر پر اس طرح بمباری کرتی ہے کہ ہر چیز کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیتی ہے، جہادی تنظیمیں وہاں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے لیے ممکن ہی نہیں کہ فلسطینیوں کی مدد کر سکیں، اور اسرائیل کھلے دل سے غزہ اور اس کے رہنے والوں کو جلا رہا ہے۔ عرب حکومتوں کو تو ہم ویسے بھی دیکھ ہی چکے ہیں۔

اب لوگوں کا واحد سہارا اور آخری امید جہادی تنظیمیں ہیں، فلسطین اور ادلب کے بچے اور عورتیں ’وا مستغیثا‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

تازہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق قنطیرہ شہر میں اسرائیل کی بارڈر سکیورٹی نے داعشی ملیشیا کو نئے ہتھیار اور دیگر آلات فراہم کیے ہیں، تاکہ اسرائیل کے لیے خطرے کے وقت انہیں استعمال کیا جا سکے اور کسی کو بھی اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے۔

مختصراً یہ کہ داعشی خوارج اور اسرائیل ایک ہی سِکّے کے دو رخ ہین، لیکن داعشیوں کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے اور وہ روئے زمین سے مٹنے والے ہیں۔

ان شاء اللہ