داعش اور احمد مسعود کے آقا کے خلاف تند و تیز آپریشن

#image_title

داعش اور احمد مسعود کے آقا کے خلاف تند و تیز آپریشن

اویس احمد

 

اسرائیل کی غاصب ریاست امت مسلمہ کی سفید پیشانی پر بدنما داغ ہے۔ ان کی خباثتیں اور شرارتیں نہ صرف پڑوسی مسلم ممالک بلکہ دور دراز کے ممالک تک بھی پہنچ چکی ہیں۔ وہ ہر ممکن طریقے سے عالم اسلام میں جنگ کو بڑھاوا دینا اور اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم ممالک کے بزدل حکمران بھی اسرائیل سے اچھے تعلقات رکھنا چاہ رہے ہیں، حالانکہ اسرائیل آئے روز مظلوم فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے، ان کی زمینیں ہتھیا رہا ہے اور ان کے مکانات تباہ کر رہا ہے۔

مسلمانوں میں اسرائیل کے قریبی حامی بھی موجود ہیں، ایسے حامی کہ جو اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک میں داعش اس کی بہترین حامی ہے۔ داعش نے مشرق وسطی میں اسرائیل کے لیے وہ کچھ کر دیا ہے کہ خود اسرائیل بھی اپنے لیے اتنا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

اگر آپ اس سلسلے میں عرب علماء یا خود اسرائیلیوں کی کتب و تحریرات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ داعش نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔

افغانستان میں ان کا بہترین حمایتی احمد شاہ مسعود کا خاندان ہے، برسوں قبل احمد شاہ مسعود کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور یہودی اس سے ملتے تھے۔ چند روز قبل احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور جبہۂ صیہونیت کے سربراہ احمد مسعود نے امارت اسلامیہ کے خلاف اسرائیل سے مدد کی اپیل کی ہے۔

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ فلسطینی فدائیوں نے اسرائیل پر ایسا آپریشن شروع کر دیا ہے کہ وہ کسی اور کی مدد تو درکنار خود اپنا دفاع نہیں کر پا رہا، ان کے ہاتھوں شکست کھا کر فوج، خواتین، ٹینک ار ہتھیار فلسطینیوں کے ہاتھ غنیمت ہو چکے ہیں اور اسرائیل کے یہ دونوں حمایتی یتیم ہو کر رہ گئے ہیں۔