داعش امریکی مفادات کی جستجو میں

قلب الاسد افغانی

#image_title

حال ہی میں داعش امارت اسلامیہ پر اس طرح کی تنقید کر رہی ہے کہ امارت اسلامیہ عالمی برادری کے ساتھ تجارت اور دیگر تعلقات کیوں بنا رہی ہے اور اس تجارت اور تعلقات کو ناجائز قرار دے رہی ہے۔

لیکن وہ یہ باتیں صرف اور صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ امارت نے امریکہ کے مخالف ملک چین اور اس طرح کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت شروع کر دی ہے اور داعش کبھی یہ نہیں چاہتی کہ امریکہ کا تھوڑا سا بھی نقصان ہوتا دیکھے۔ کیونکہ یہ امریکہ کے ملازمین ہیں جو افغانستان میں امریکی مفادات کے لیے راستہ صاف کرتے ہیں۔

۱۳۹۶ میں حامد کرزئی نے نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا: داعش افغانستان میں امریکی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔ کرزئی نے یہ بات بہت واضح الفاظ میں کہی کہ داعش کے خلاف امریکی جنگ مخلصانہ نہیں ہے، اور پچھلے دو سال سے امریکہ کی طرف سے داعش پر کوئی حملہ بھی نہیں کیا گیا۔

دوسرا، اگر کفار کے ساتھ تجارت حرام ہے تو ۲۰۱۴ء میں جب داعش نے عراق میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا اور تیل کے گیارہ کنوؤں پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے غیر ملکی کافر ممالک کو تیل کیوں فروخت کیا؟

اسی طرح جب داعش نے شام میں تیل کے کنوؤں پر قبضہ کیا تو روزانہ ۷۵،۰۰۰ بیرل تیل تیار کیا جاتا تھا اور اسے براہ راست بشار الاسد کے گروپ کے ذریعے یا درمیان میں کوئی وسیلہ استعمال کرتے ہوئے فروخت کرتے تھے۔

میں آپ کے سر میں درد کیوں کروں، خوارج ویسے بھی یہ باتیں سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں، ان سے صرف اتنا کہوں گا کہ جس دلیل کے ساتھ یہ لوگ اپنی تجارت کرتے تھے، وہی دلیل آج ہمارے لیے بھی ہے۔