داعش: امریکہ کی ایشیائی ملیشیا

صلاح الدین (ثانی)

#image_title

ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ صلیبی اور یہودی عالم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم سے بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں۔ دنیا پر روسی جارحیت اور استعمار کے بعد جب رب تعالیٰ کی نصرت سے وہ افغانوں کے ہاتھ شکست کھا کر ذلیل و رسوا ہوا، امریکہ فوراً میدانِ جنگ میں اتر آیا۔ لیکن الحمد للہ یہ مشکل جنگ بھی ختم ہوئی اور اسے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
۲۰۱۴ء میں جب امریکہ کو معلوم ہوا کہ ایشیا میں اس کی کامیابی اب ناممکن ہے، تو اس نے فوراً داعش کے نام سے ایک خونی منصوبہ اور گروپ کی تشکیل کی، جس کا مقصد سارے ایشیا میں امریکی مفادات کے لیے جنگ کرنا تھا۔
اصل موضوع کی طرف آتے ہیں، وہ یہ کہ داعش کے ایک النبا نامی میگزین نے امارت اسلامیہ پر اعتراض کیا ہے اور اس پر امریکہ سے دوستی کا الزام لگایا ہے۔
داعش کے پاس ایسے کوئی ثبوت یا شواہد موجود نہیں ہیں کہ امارت اسلامیہ نے رسمی طور پر امریکہ سے دوستی کی درخواست کی ہو، یہ بے جا الزامات اس لیے لگا رہے ہیں کیونکہ امارت نے امریکہ کے مخالفین (چین اور روس) کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کیے ہیں، داعش نہیں چاہتی کہ ایشیا میں امریکی مخالفین میں اضافہ ہو، اسی لیے داعش امارت، ترکی اور قطر کے رہنماؤں پر تنقید کرتی ہے۔ کیونکہ داعش جنگ کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لیے خطے میں سفارتی امور بھی چلا رہی ہے۔ داعش چین سے تجارت پر اس لیے ناخوش ہے کیونکہ اس سے امریکہ کی صورتحال پر برا اثر پڑتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ ناروا تجارت ہے۔ انہیں پھر سب سے پہلے یہ بتانا چاہیے کہ جب ابوبکر بغدادی نے خروج کیا اور تنظیم القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر لی، تو شام کے ان خطوں اور تیل کے ذخائر پر جو کہ اس وقت جبہۃ النصرہ کے مجادین کے پاس تھے، داعش نے قبضہ کیوں کیا؟ قبضے کے بعد یہی تیل بشار الاسد کی ملیشیا اور امریکی افواج کو فروخت کیا گیا۔ کیا یہ تجارت کا مسئلہ صرف خوارج کے لیے ہی جائز ہے؟
داعش جو خود کو مدعیٔ خلافت کہتی ہے، اسے ان بے بنیاد الزامات کی بجائے مسئلۂ فلسطین پر غور کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ اور ان کی حکومت دونوں ہی جعلی ہیں۔ امت کا دفاع کرنے کی بجائے انہوں نے حکومتوں پر الزام تراشیاں کرنے کے دفتر کھول رکھے ہیں۔
فلسطین کے موضوع کو چھڑے ایک مہینہ پورا ہونے کو ہے، لیکن داعش نے اسرائیل کے خلاف اور حماس کی حمایت میں نہ کوئی اعلامیہ جاری کیا نہ بیان اور نہ ہی عملی میدان میں کوئی ردّعمل ظاہر کیا، بلکہ صرف حکومتوں پر جاہلانہ اعتراضات کر رہی ہے۔