داعش افریقی مجاہدین کے خلاف

صلاح الدین (ثانی)

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ داعشی خوارج جہادی گروپوں کے خلاف میدان جنگ میں اترے ہوں، ان کی خوارجیت کے پہلے دن سے ہی، جب سے ابو بکر بغدادی نے ۲۰۱۴ء میں خروج کیا، اس کے بعد سے داعش نے تکفیر کو ہوا دے کر اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف اپنی جنگ کو جہاد کا نام دیا ہے۔

مغرب کے بین الاقوامی اتحاد کے خلاف شیخ اسامہ بن لادن اور ملّا محمد عمر رحمہم اللہ کی قیادت اور رہنمائی میں عربی اور عجمی مجاہدین جہادی فریضہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ بغدادی کے خروج کے بعد صومالیہ سے لے کر پاکستان تک داعش جہاد کرنے والوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اگرچہ دنیا کے تمام عرب ممالک پر امریکی قبضہ ہے اور فلسطین بھی یہود کے پنجوں میں ہے، لیکن داعش یہودیوں اور صلیبیوں سے جہاد کرنے کی بجائے ان جہادی تنظیموں سے لڑ رہی ہے کہ جو عالمی اتحاد کے خلاف جہاد کر رہی ہیں۔

اس بات کے ثبوت کے لیے یہ ضرور کہوں گا کہ ۲۰۱۴ء کے ایک ماہ میں داعش نے شامی مجاہدین پر ۴۶ خودکش حملے کیے جن کے نتیجے میں درجنوں حق کی راہ کے مسافر شہید ہوئے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ حال ہی میں داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے برکینا فاسو میں القاعدہ کے مراکز پر حملہ کیا ہے، اس لیے کہ داعش نے ہمیشہ یہودیوں اور صلیبیوں کی ایماء پر مسلم امت کے اصلی ہیرو شہد کیے اور امت کو نقصان پہنچایا۔

باقی جہاں تک القاعدہ پر مرتد کا لیبل لگانے کی بات ہے، تو یہ بات غلط نہ ہو گی کہ داعش ہر اس مؤمن مسلمان کی تکفیر کرتی ہے اور اسے مرتد کہتی ہے کہ جو امریکہ اور یورپ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔ امارت اسلامیہ، القاعدہ، ٹی ٹی پی، حرکت الشباب، انصار الشریعہ، حماس، انصار الفرقان، احرار الشام، اور اس طرح کے دیگر جہادی گروہ جو کفار اور ان کے غلاموں کے خلاف اسلام کی خاطر دنیا میں برسرِ پیکار ہیں، یہ عصرِ حاضر کے خوارج (داعش) انہیں مرتدین قرار دیتے ہیں۔

موجودہ حالات میں داعش نے فلسطینی مسلمانوں کے دفاع میں اب تک کوئی ایک اسرائیلی تو ہلاک نہیں کیا، لیکن حماس کو مرتد ضرور قرار دیا ہے۔