داعش اسلامی مقدسات کی توہین کرتی ہے

ڈاکٹر عائشہ

#image_title

بعض اوقات ظالموں کا ظلم اس قدر عام ہو جاتا ہے کہ وہ انسان اور دیگر مخلوق تو ایک طرف، مذاہب، ادیان اور ان کی مقدسات تک کے ساتھ بھی ظلم کرتے ہیں، ان کی بے حرمتی کرتے ہیں اور انہیں تباہ کرتے ہیں۔
ایک تنظیم جو اپنی نسبت اسلام سے کرتی ہے، ایسا کیسے کر سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر (مسجد) یا اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر کی قبر پر بارود سے دھماکہ کرے اور اس کے بعد تکبیر کے نعرے لگائے؟
آئیں اس حوالے سے یہ مختصر تحریر دیکھتے ہیں:
۲۰۱۴ء میں جب داعشی خوارج موصل شہر میں داخل ہوئے، تو وہاں انہوں نے قتلِ عام، اغوا کاری، زنا اور لواطت کے ساتھ ساتھ مقدس دینِ اسلام کے شعائر کی بے حرمتی اور توہین بھی کی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ياايهاالذين امنوا لاتحلوا شعائرالله
ترجمہ و تفسیر: اے اہل ایمان تم خدا کی عظمت کی نشانیوں کو اپنے لیے حلال مت گردانو کہ ان کی بے حرمتی اور نا قدری کرو، بلکہ ان کی بے حرمتی حرام ہے۔
داعشی موصل میں حضرت یونس علیہ السلام کے مقبرے پر پہنچے، اور اسے بارود کے ذریعے تباہ و برباد کر دیا اور دلیل یہ پیش کی کہ لوگ کیوں اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور بدعات کے مرتکب ہوتے ہیں۔
نہ صرف مقبرہ بلکہ مقبرے کے ساتھ بڑی جامعہ مسجد جہاں سینکڑوں لوگ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے اسے بھی بموں سے تباہ کر دیا، اس کی دلیل بھی یہ تھی کہ یونس علیہ السلام کے مقبرے سے بدعتی لوگ یہاں آتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔
تکریت میں مسجد اربعین میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کے چالیس صحابہ کے مقبرے تھے۔ مسجد کے بغل میں چالیس صحابہ کرام کی ان قبروں کو بموں سے اڑا دیا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔
تل عفر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے ساتھ بڑی جامعہ مسجد کو بموں سے تباہ کر کے زمین بوس کر دیا گیا۔
جامعہ مسجد النوری جہاں داعش کے سربراہ بغدادی نے اپنی بیعت کا پہلا حلف لیا اسے بھی بموں سے اڑا دیا گیا۔
یہ ہم نے مثال کے طور پر چند کا ذکر کیا ہے۔
مساجد کے علاوہ انہوں نے حنفی دینی مدارس اور تصوف کی خانقاہیں بھی بموں سے تباہ کیں تاکہ مسلمان اپنے بچوں کو دین کی تعلیم نہ دلا سکیں۔

جاری ہے…!