داعش اسلامی دنیا میں تشدد کو فروغ دینے والا منصوبہ

#image_title

داعش اسلامی دنیا میں تشدد کو فروغ دینے والا منصوبہ

 

اميد فردا

ہمیں اس نکتہ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ اسلام کا مطلب امن، خوشحالی اور سلامتی ہے، اسلام انسانی جان کو مقدس سمجھتا ہے اور انسانی جان کی حفاظت کے لیے سلامتی، انصاف، آزادی اور پرامن زندگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایک مسلمان جو دنیا میں امن قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوتا اور دہشت گردی اور فساد کے جذبات نہیں رکھتا، امن اور خوشحالی کے خلاف استعمال ہونے والا لفظ دہشتگردی اور تشدد ہے۔ ھمارے مذہبی منابع میں اسے جبر اور ظلم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

مغربی حکمرانی کے متشدد حکمران کبھی بھی عالم اسلام میں غیر جانبدار نہیں رہے، بلکہ اپنے جارحانہ اقدامات اور تشدد سے انہوں نے انتہا پسندی اور وحشت کے فروغ اور تقویت میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے، جن میں سے ایک داعش کا منصوبہ ہے۔

امریکہ اور مغرب اپنے تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک میں اسے مضبوط کر رہے ہیں اور وہ اس شدت پسند اور ظالم گروہ کے ذریعے عالم اسلام میں تشدد اور وحشت پھیلانا چاہتے ہیں۔ مغربی ممالک کے بنائے ہوئے کرائے کے گروہ داعش کا سب سے بڑا ہدف دہشت گردی، معاشرے کا عدم استحکام، امن و امان کی تباہی، سماجی زندگی کے معاملات میں خلل ڈالنا، لوگوں کو پریشان کرنا ہے، وہ اپنے آپ کو اس وقت بہت کامیاب سمجھتے ہیں جب وہ دوسرے لوگوں کو خوفزدہ کر سکیں، تباہی کی سطح کو بڑھا سکیں اور اس کے ساتھ مغربی میڈیا اسلام کو ایک انسان دشمن مذہب کے طور پر اور مسلمانوں کو متشدد، ظالم اور دہشت گرد کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔

تشدد اور وحشت، طاقت اور دباؤ، فکری اور جسمانی طور پر وہ تمام انفرادی اور اجتماعی حرکتیں ہیں جو انسان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ آج جب ہم دنیا کے ہر خطے میں مختلف طریقوں سے ہونے والے تشدد اور وحشت کو دیکھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس تشدد کی جڑیں مغرب کی جابرانہ حکمرانی میں پوشیدہ ہیں اور انہیں وہیں سے پالا جاتا ہے۔ اور داعش جیسے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ہے۔ اور آج کے دور میں اسلامی معاشروں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں ان کا بہت موثر کردار ہے۔