داعشی وہ کہتے ہیں جو انہوں نے خود نہیں کیا

#image_title

داعشی وہ کہتے ہیں جو انہوں نے خود نہیں کی

انجینئر عامر

تاریخ شناس اور مورخین، تاریخ لکھنے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس کے واسطے پچھلی نسلوں کی زندگیوں سے استفادہ کیا جا سکے اور ان کی تباہی کا سبب بننے والی چیزوں کو دہرایا نہ جائے۔ بدقسمتی سے آج لوگ تاریخ کو پڑھنے میں اتنا وقت نہیں لگاتے جتنا کہ انہیں چاہیے تھا۔

اگر تاریخ کا پڑھنا ضروری نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں گزرے ہوئے امتوں کے قصے بیان نہ کرتے۔

 یہ کہانیاں اسی لئے ہیں کہ ہم اس کے ذریعے کامیابی اور ناکامی کی راہیں جان لیں اور اپنی زندگیوں میں اسے نافذ کرے۔

چند روز قبل جھوٹی خلافت کے بہت سے قلم فروش کاتبین نے اعتراض کے طور پہ یہ لکھا تھا کہ پچھلی حکومت کے کمیونسٹ اہلکار امارت کی صفوں میں کیوں مصروف ہیں؟

انہیں سزا ملنی چاہیے تھی، یا انہیں کھل کر توبہ کرنا چاہیے تھا اور کھل کر اپنے کفر کا اعتراف کرنا چاہیے تھا۔ میں اس مسئلے کی شرعی حیثیت پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن خلافت باطلہ کے فریب اور مکار کو واضح کرنا چاہوں گا۔

اگر ہم باطل خلافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ وہ یہ اعتراض اللہ تعالیٰ کے رضا کے لیے کرتے ہیں یا اپنی ضد اور عناد کے وجہ سے کرتے ہیں؟

جھوٹی خلافت کے زیادہ تر افراد جو اس جھوٹی خلافت کے رأس میں مقرر ہیں، وہ سب صدام حسین کی کمیونسٹی حکومت باقی ماندہ ہیں، اور اس کمیونسٹ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے، مسلمانوں کی مار پیٹ، تشدد اور قتل عام کی تاریخ رکھتے ہیں۔

خلافت کے جھوٹوں نے نہ ان سے توبہ کرایا نہ ہی سزا دی بلکہ انہیں اعلیٰ عہدوں پر تعینات بھی کیا گیا، جن میں سے بہت سے کونسلوں اور کمیشنوں کے رکن مقرر ہوئے۔

افغانستان میں جھوٹی خلافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ یہ اعتراض کس حد تک درست ہے؟

جب جھوٹی خلافت نے افغانستان میں اپنی شاخ کھولی تو طالبان کی صفوں میں بہت سے وہ لوگ جو خیانت اور جرائم کی وجہ سے بدنام تھے اور طالبان کے ملٹری کمیشن کی نگرانی میں تھے اور ان کی کیسز امارت کی عدالتوں میں جاری تھے، انہوں نے داعش کا راستہ اپنایا۔ خلافت کے جھوٹوں نے نہ ان کو زیر عدالت لایا اور نہ سزا دینے کی کوشش کی بلکہ انہیں حنفی عقیدے کے باوجود جنہیں وہ گمراہ، کافر اور مشرک سمجتھے ہیں، انہیں اپنی صفوں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا اور انہیں طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔

سیرت، سعد امارتی اور عبدالخالق عمر اس کی اچھی مثالیں ہیں۔

خلافت کے جھوٹے دعووں سے دھوکا کھانے والے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ ایک بار پھر ان کی باطل خلافت کی تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس قدر ان کی خلافت کا دعویٰ درست ہے۔

  وما علینا الا البلاغ

  • السلام علیکم
    میں نے آپکی تحریر پڑھی ہے کیا آپ ہمیں کوئی کتاب بتا سکتے ہیں یا اس موضوع پرلکھ سکتے جو فتنہ اسلامی تاریخ میں آئے ہیں انکو کیسے پہچنا جائے ، ان سے کیسے بچا جائے اور انکا مقابلہ کیسے کیا جائے۔
    جزاک اللہ
    وسلام