داعشی خوارج کے ہاتھوں مشائخ اسلام کا قتل

شیخ ابو خالد السوری کا بے رحمانہ قتل

شیخ ابو خالد السوری کا بے رحمانہ قتل

داعش کے جرائم کی لمبی فہرست میں ابو خالد کا قتل سب سے شرمناک ہے یہ ان کے چہروں پر ایک زور دار تھپڑ اور پیشانیوں پر ایک بد نما داغ ہے، شیخ ابو خالد شیخ عزام، اسامہ بن لادن اور دیگر جہادی قائدین کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے جنہیں داعش نے شہید کر دیا۔ شیخ ابو خالد کو شیخ الظواہری نے ابو بکر بغدادی اور ابو محمد الجولانی کے درمیان اختلافات کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لیے حکم مقرر کیا تھا

ابو خالد نے فیصلہ جولانی کے حق میں کیا اور بغدادی کو عراق تک محدود رہنے کا کہا جسکی وجہ سے بغدادی نے ان کے قتل کا حکم جاری کیا ابو خالد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ۲۰ فروری ۲۰۱۴ کو حلب کے السکہ علاقے میں مشورے میں مصروف تھے داعش کے کارندوں نے آپ پر حملہ کیا اور چھ ساتھیوں سمیت شہید کر دیا، داعش نے وہ کچھ کیا جو آمریکہ کے بس میں بھی نہ تھا آمریکہ نے ابو خالد کے سر پر دس ملین ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا زندگی کا بڑا اور اکثر حصہ ہجرت ونصرت میں گزار دینے والے شیخ ابو خالد کو لوگ عثمان الشام ( شام کے عثمان ) کہا کرتے تھے خوارج نے شیخ کی سفید داڑھی کا بھی لحاظ نہ کیا۔ ان کے جہادی کار ناموں کی بھی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی ذاتیانا کی تسکین کے لیے شیخ تقبلہ اللہ کو شہید کردیا عرب مجاہدین کیلئے بن لادن کی شہادت کے بعد شیخ ابو خالد کی شہادت سب سے درناک مرحلہ تھا۔