داعشی خوارج کا پروپیگنڈہ

#image_title

داعشی خوارج کا پروپیگنڈہ

اويس احمد

 

جب کوئی گروہ کمزوری کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے کارندے جھوٹے دعوے کرنے لگتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے وہ لوگوں میں مضبوط ظاہر ہوجائیں گے لیکن اس کے برعکس وہ لوگوں میں اور بھی ذلیل ہو رہے ہوتے ہیں۔

داعشي خوارج کے پاس بھی جھوٹے دعوؤں کے علاوہ اور کچھ نہیں بچا، یہاں تک جب کوئی شخص قدرتی آفت کا شکار ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے تو داعش ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ کام انہوں نے کیا، حالانکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔

 

چند روز قبل امارت اسلامیہ افغانستان کے مرکزی بینک کے سربراہ الحاج ملا ہدایت اللہ بدری ٹریفک حادثے میں زخمی ہو گئے تھے، یہ خبر میڈیا تک پہنچتے ہی داعش کے کٹھ پتلیوں نے کہا کہ یہ کام انہوں نے کیا ہے اور اسے شہید کیا ہے، بعد میں جب وہ خبر جھوٹ ثابت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔

تاہم یہ ایک عام ٹریفک حادثہ تھا۔

اسی طرح ایک مجاہد جسے چوروں نے اغوا کیا تھا امارت اسلامیہ افغانستان کی طاقتور مجاہدین نے نکا پیچھا کیا، بدقسمتی سے مجاہد کی بازیابی سے قبل ہی ان کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور تمام اغواء کار مارے گئے۔ جہاں بھی ایک عام نیک آدمی یا کوئی مجاہد شہید ہوتا ہے۔

داعش ادعا کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا ہیں، حالانکہ خبر میڈیا تک پہنچنے سے پہلے ان کو علم تک نہیں ہوتا۔

اب انہوں نے صرف جھوٹے پروپیگنڈوں کی طرف رخ کیا ہے اور لڑنے کی صلاحیت کھو دی۔

فلعنة اللّٰه علی الکذبين