داعشی خوارج خطے میں لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں

#image_title

داعشی خوارج خطے میں لوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں

طاہر احرار

داعش کی حقیقت جاننے کے بعد عراق اور شام میں لوگوں نے داعشی خوارج کو شہروں سے نکال دیا اور اب وہ صرف بنجر صحراؤں میں رہتے ہیں۔

 

وہاں انہوں نے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے اور غیر صاف شدہ تیل کو مارکیٹوں میں اسمگل کر رہے ہیں، اور اس طرح انہیں کافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

 

اسی لئے وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں حکومت نہیں بناتے اور نہ ہی انہیں حکمرانی میں کوئی دلچسپی ہے۔ وہ اپنی من مانی میں فوائد تلاش کرتے ہیں، وہ اپنے ہر ملازم کو ماہانہ چار سو ڈالر ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالات میں ہنرمند کاریگر دو سو سے ڈھائی سو پر ماہانہ کام کررہے ہیں جس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے، کچھ لوگوں کے لیے بازار میں کام کرنے کی تنخواہ کافی نہیں ہے، وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے داعش کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

 

البتہ عام لوگوں کو بھوک اور مجبوری نے داعشی خوارج کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 

افغانستان بھی ایسا ہی ہے، جب جمہوریت نے افغانستان گرنے کا خواب دیکھ لیا، تو انہوں نے داعشی جنگجووں کو شمال اور زابل منتقل کیا تاکہ وہاں کے ذخائر لے جائیں، لیکن امارت اسلامیہ افغانستان نے ایسی حکمت عملی سے انہیں گھیر لیا کہ جمہوریت والوں نے ہوائی جہازوں کی مدد سے انہیں بچایا۔

 

زوال کے بعد امریکہ نے مشکلات پیدا کیے، لوگوں کو کچھ معاشی اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو داعش نے موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بھی اپنے کرائے کے فوجیوں کی تنخواہیں بڑھائی اور امریکہ کے ایماء پر ان کا ہدف ان مجاہدین کی شہادت تھی جنہوں نے امریکیوں کو ان کی کھوپڑی میں پانی دیا، اور اس پر داعشی خوارج امریکہ سے ڈالر وصول کرتے تھے ۔

 

تاہم افغانستان کے مذہبی اور نیک لوگوں نے داعش کو مسترد کر دیا اور انہیں نکال کر باہر کیا۔

 

یاد رکھیں! افغانستان کی پاک سرزمین باطل کو برداشت نہیں کرسکتی۔