خوارج کی گمراہی اور ان سے امت مسلمہ کو پہنچنے والا نقصان

#image_title

خوارج کی گمراہی اور ان سے امت مسلمہ کو پہنچنے والا نقصان
مولوی مستغفر حنفی

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا﴾
اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔ (سورۃ البقرۃ: ۱۴۳)
یہاں اللہ تعالیٰ نے ہم سے فرمایا ہے کہ میں نے تمہیں امتِ وسط بنایا ہے اور ہماری فضیلت کا سبب یہی میانہ روی اور اعتدال ہے۔
اور یہ کہ ہم دیگر امتوں پر گواہ ہوں گے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر گواہ ہوں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری امت دیگر امتوں سے بہتر اور افضل ہے، لیکن اس فضیلت والی صفت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہماری امت کی اعتدال والی صفت بیان فرمائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مبارک دین اسلام کی ریڑھ کی ہڈی اعتدال ہے، کہ اگر کوئی افراط کرے گا تو بھی گمراہی کی طرف جائے گا اور اگر تفریط کرے گا تو بھی خود کو ہلاکت میں ڈالے گا۔
یہاں ہم افراط و تفریط اور اس کے ساتھ ساتھ اعتدال کے بارے میں تین مثالیں ذکر کریں گے، ایسی مثالیں جو دکھاتی ہیں کہ امت میں کون افراط کے راستے پر ہے، کون تفریط کے اور وہ کون ہے جس نے اعتدال کا راستہ اختیار کیا ہے۔
سب سے پہلے انتہائی اہم بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسم کی حدیث ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی، اس سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی اکثریت اعتدال پر ہے اور اقلیت نے افراط و تفریط کا راستہ اختیار کیا ہے۔
پہلی مثال: اعتدال والی جماعت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہو کر، پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، پھر تابعین، پھر تبع تابعین، پھر چاروں برحق امام، پھر تینوں خلافتیں، اموی، عباسی اور عثمانی، یہ سب اعتدال کی راہ پر چل رہے تھے، البتہ استثنائی صورت میں کچھ لوگوں نے انفرادی سطح پر افراط و تفریط کا راستہ ضرور اختیار کیا، لیکن اکثریت اعتدال کی راہ پر ہی چل رہی تھی۔
دوسری مثال: تفریط کے راہی
پھر شیعہ وہ گروہ تھا کہ جس نے دین میں تفریط کا راستہ اختیار کیا، دین کو صرف محبت اور رہبانیت تک محدود کر دیا، دین کے تمام اصولوں کو چھوڑ دیا، ان کے نزدیک دین میں جن آسانیوں کے لیے بھی کوئی بہانہ بن سکتا تھا انہوں نے وہ بہانہ اختیار کیا۔ انہیں تحریفات کی وجہ سے یہ اہل بیت کے ساتھ محبت میں اتنی شدت اختیار کر گئے کہ شرک کی حد تک پہنچ گئے اور آخرِکار اسلام کے نام پر شرک اور گمراہی تک جا پہنچے۔
تیسری مثال: افراط اختیار کرنے والے
یہ وہ گروہ ہے جس نے دیکھا کہ شیعہ محبت، رہبانیت اور دین میں آسانیاں ڈھونڈنے کی وجہ سے گمراہ ہو چکے ہیں تو انہوں نے ان چیزوں کے رد میں بے حد افراط سے کام لیا۔ جیسے شیعوں نے حدود کے بارے میں بہانے بنائے، کبیرہ گناہوں کو صغیرہ گناہوں کے برابر گردان لیا، زنا اور اس طرح کی دیگر چیزوں کے بارے میں بھی حیلے بنا لیے۔
اسی طرح اس تیسرے گروہ کے لوگ (افراط کا راستہ اختیار کرنے والے) جو جاہل تھے، میدان میں آگئے، کبیرہ گناہوں کو کفر گردان لیا، حدود کے بارے میں دوگنی تطبیق کی، اہل بیت کے ساتھ دشمنی شروع کر دی، دینی شعائر سے محبت کو بے معنی قرار دیا، رہبانیت کو بالکل فضول سمجھ لیا، مختصر یہ کہ انہوں نے دین میں انفرادی اعمال پر بہت زیادہ زور دیا، اور دین کو اپنے اوپر اس قدر سخت کر لیا کہ اس کی وجہ سے وہ خوارج بن گئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: "الخوارج کلاب اهل النار”
ترجمہ: خوارج اہل جہنم کے کتے ہیں۔
اب اہل جہنم تو کفار اور مشرکین ہیں، اس لیے مطلب یہ ہوا کہ خوارج کفار و منافقین کے کتے ہیں اور ان سے بھی کئی گنا بدتر ہیں۔
اس طرح شیعوں نے تفریط سے کام لیا اور شرک کی حد تک پہنچ گئے جبکہ خوارج نے افراط سے کام لیا اور گمراہ ہو گئے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کا مبارک دین اعتدال کا دین ہے، جو اس میں افراط کرے گا وہ بھی اسلام سے جائے گا اور جو تفریط کرے گا وہ بھی جائے گا۔
لیکن بد قسمتی سے جو خوارج اسلام کے آغاز میں پیدا ہوئے، انہیں صحابہ کرام رجی اللہ عنہم اجمعین نے ختم کر دیا، لیکن ان خوارج کے افکار اور عقائد آج بھی موجود ہیں، ان خوارج کے افکار آج بھی اسلام کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اسلام کو ان خارجی افکار نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
آج کے دور میں ان کی بہترین مثال داعش ہے۔
داعشی خوارج نے اسلام اور امتِ مسلمہ پر ایسی ضربیں لگائی ہیں کہ لکھنے بیٹھیں تو کتابوں کی کتابیں بھر جائیں، لیکن میں عاجزی کے ساتھ ان میں سے بعض ضربوں کا ذکر کرتا ہوں۔
۱۔ امت مسلمہ کو دو گروہوں میں تقسیم کرنا
بغدادی الاسرائیلی سے پہلے پوری دنیا میں امیر المؤمنین ایک تھے، ساری دنیا کے مجاہدین ایک بیعت کے تحت جمع تھے، تمام مجاہدین اتحاد کے ساتھ ایک امیر المؤمنین کے تحت کفار و منافقین سے جنگ کرتے تھے، لیکن جب بغدادی الاسرائیلی نے بغاوت کی اور خود کے جعلی امیر المؤمنین قرار دیا، تو سب سے پہلے تو وہ مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا، دوسری بات یہ کہ اگرچہ امت مسلمہ میں ان کے طرفدار بے حساب ہیں لیکن پھر بھی خوارج نے مجاہدین کے ساتھ خانہ جنگی شروع کر دی۔
اس طرح اسلام پر ان کی پہلی ضرب یہ تھی کہ پہلے مجاہدین و غازی یہود و نصاری کے مقابلے میں شہید ہوا کرتے تھے اب ان میں سے کچھ خوارج کے مقابلے میں شہید ہونے لگے۔
۲۔ مسلمانوں کے امیر سے بغاوت
تمام دنیا کے مجاہدین قائدین نے امیر المؤمنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ سے بیعت کر رکھی تھی، خوارج کی بغاوت کے ساتھ ہی ان کی طرف سے دوسرے امیر کا بھی اعلان ہو گیا، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے امت مسلمہ میں اختلاف و تفریق کا بیج بو دیا۔
۳ دینِ اسلام کی بدنامی
بیسویں اور اکیسویں صدی میں مغربی ممالک میں الحاد، بے دینی اور عیسائیت کی خرافات سے بد اعتمادی اپنے عروج پر پہنچ گئی، لیکن دین انسانوں کی ضرورت ہے، اس کی غیر موجودگی میں انسانوں کو بہت سی روحانی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اہل مغرب جو روحانی اعتبار سے بہت نادار ہو چکے تھے، وہ دینِ حق کے متلاشی تھے، ان میں سے بہت سوں نے اسلام کا مطالعہ کیا، اور پھر مسلمان ہو گئے، جب مغربی حکمرانوں نے یہ دیکھا کہ مغرب میں اسلام پھیل رہا ہے تو داعشی جو خود کو اسلامی خلافت کے دعویدار اور دین کے ٹھیکیدار قرار دے رہے تھے، مغربی حکمرانوں نے داعش سے اسلام کے نام پر مظالم اور بربریت شروع کرنے کا کہا۔
داعش نے بھی یہ کام شروع کر دیا، کبھی لوگوں کو آگ میں جلا ڈالا، کبھی سفید ریش بزرگوں کو بارودی سرنگوں سے اڑا دیا، کبھی بچوں کو ذبح کیا، کبھی لوگوں کی عورتوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ زنا کیا اور کبھی کم عمر لڑکوں کے ساتھ بدکاری اور لواطت کی۔
مختصر یہ کہ داعش (امریکی بلیک واٹر) نے اسلام کے نام پر کسی قسم کے فساد سے دریغ نہیں کیا۔ پھر ان سب چیزوں کی ویڈیوز بھی بنائیں، یہ ویڈیوز مغربی میڈیا نے پورے زور و شور کے ساتھ نشر کیں، یہاں تک کہ تمام مغرب کی عوام کے ذہنوں میں یہ بات پہنچ گئی کہ اسلام سفاکیت، عصبیت اور دہشت کا دین ہے۔
معاذ اللہ
یہی تھے جنہوں نے اہل مغرب کو اسلام سے پیچھے ہٹا دیا، اس لیے داعش کی اسلام کے خلاف سب سے بڑی ضرب یہ تھی جس نے اسلام کو شدید بدنام کر دیا۔
۴۔ اسلام کے نام پر خانہ جنگی
خوارج سے پہلے ہر وہ شخص جو خود کو مجاہد گردانتا تھا اس کا نشانہ کفار تھے۔ خوارج بھی خود کو مجاہدین کہتے ہیں، لیکن ان کا اوّلین ہدف ہمیشہ اچھے مجاہدین ہی ہوتے ہیں۔ اس طرح خوارج کے پیدا ہونے کے بعد بہت سے مجاہدین خوارج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اگر وہ ان کی بجائے کفار کے خلاف لڑ رہے ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
۵۔ خلافت اسلامیہ کی توہین
اسلام میں چار طرح کی خلافتیں گزری ہیں۔
اوّل: خلفائے راشدین کی خلافت، یہ وہ خلافت تھی کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔
دوم: اموی خلافت
سوم: عباسی خلافت
چہارم: عثمانی خلافت
خلفائے راشدین کا زمانہ ساری دنیا کے علم میں ہے، اور اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس کے بعد تین خلافتیں بھی ایسی خلافتیں تھیں کہ آج کے دور کے تمام نظاموں سے زیادہ ان میں عدل تھا، زیادہ قوت تھی، اور اپنے وقت کی تمام ریاستوں سے زیادہ متمدن تھیں۔ چنانچہ یہ ہمارے لیے ایک سنہری تاریخ ہے کہ دنیا میں آج تک اچھائی کے اعتبارے سے، امن کے اعتبار سے، اقتصادی اعتبار سے، انسانی حقوق کے اعتبار سے اور اس طرح دیگر اعتبار سے ہماری سابقہ خلافتوں جیسی کوئی ریاست موجود نہیں۔
لیکن خوارج نے کیا کیا؟
خوارج نے تباہی، بربریت، ظلم، نفس پرستی اور حیوانیت کے سوا کچھ نہیں کیا۔
چنانچہ انہوں نے خلافتِ اسلامیہ کے سنہرے نام اور تاریخ کو اپنے ان اعمال کی وجہ سے اس طرح بدنام کر دیا کہ اس پر پوری انسانیت کو شرم آتی ہے۔
خوارج نے آج خلافت اسلامیہ کی شدید بری شکل لوگوں کے سامنے پیش کی۔ ممکن ہے کہ بہت سے مسلمان خوارج کی بربریت اور پراپگینڈے کی وجہ سے ملحد ہو گئے ہوں کیونکہ انہوں نے خلافت اسلامیہ اور اس کے نظام کا چہرہ بری طرح مسخ کر دیا۔
مختصر یہ کہ داعشی خوارج کا جہادی گروہ کوئی ایک گروہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک آزاد گروہ بھی نہیں ہے، ان کے افکار و عقائد سب اسرائیل کے انٹیلی جنس نیٹ ادارے موساد کے ذریعے پھیلائے گئے ہیں، اور ان کی کاروائیوں کے منصوبے، اخراجات، جنگجوؤں کی تربیت اور جنگجوؤں کی منتقلی ہر چیز موساد اور سی آئی اے کے ذریعے سے ہوتی ہے۔
کفار نے انہیں دو مقاصد حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے، دینِ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اور مجاہدین کے درمیان افتراق ڈالنے کے لیے۔
ہم جو کہتے ہیں کہ داعش اسرائیل اور امریکیوں کا بلیک واٹر یونٹ ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک وقت میں داعشی شام میں پوری طاقت میں تھے، اس کی سرحدوں تک پہنچ گئے، اس حد تک کہ اسرائیل کی سرحد تک بھی پہنچ گئے، اس حد تک کہ اگر داعشی اپنے مورچوں سے سر اٹھاتے تو سو میٹر کے فاصلے پر اسرائیلیوں کے مورچے دیکھتے، لیکن آخر تک انہوں نے اسرائیل کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس طرح داعشی شام سے افغانستان تو آ سکتے ہیں لیکن شام سے اسرائیل نہیں جا سکتے جو ساتھ ساتھ ہیں۔ اسی طرح امارت اسلامیہ جسے ساری دنیا کی جہادی تحریکوں کی ماں تصور کیا جاتا ہے، داعش اس کے ساتھ برسرپیکار ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اسرائیل کو کچھ بھی نہیں کہتی۔
یہ سب باتیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ داعش ایک نام ہے، اور کچھ نہیں، داعش نامی نیٹ ورک عالمی انٹیلی جنس کا نیٹ ورک ہے، دنیا کے کفار جن اہداف کو اسلامی دنیا میں خود سے حاصل نہیں کر سکتے، وہ کام وہ اس انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے کرواتے ہیں اور اسلام کے نام پر اپنے اہداف کی تکمیل کرتے ہیں۔
آخرمیں یہ ضرور کہوں گا کہ خوارج مسلمانوں کی اولاد ہیں، لیکن انہیں کفار نے گمراہ کر دیا ہے، سب سے پہلے تو اللہ سے دعا ہے کہ انہیں ہدایت نصیب فرمائے، اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں، تو اللہ ان سب کو غارت کر دے، تاکہ اس شریر وائرس سے امت مسلمہ کو نجات مل جائے۔
وما علينا إلا البلاغ المبين