خوارج کی صفات

#image_title

خوارج کی صفات

حسان مجاہد

 

۱۔ دین میں غلو

خوارج اسلامی احکامات کی سخت پابندی کرتے ہیں اور اور گناہوں سے بچنے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔ خوارج کی اسلامی احکامات کی پابندی رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے واضح ہوتی ہے جس کا مفہوم ہے:

’’خوارج اس طرح قرآن کریم پڑھتے ہیں کہ تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کے سامنے کچھ بھی نہیں اور تمہارے روزے ان کے روزوں کے سامنے کچھ بھی نہیں۔‘‘

جندب ازدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ خوارج کے پاس پہنچے، تو ان کے معسکر کی طرف سے قرآن کریم کی تلاوت کی ایسی آواز آ رہی تھی جیسے شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔

خوارج اندھے تقویٰ کے ذریعے جنت کی امید رکھتے ہیں۔ وہ دین میں اعتدال کی حد سے نکل چکے ہیں اور دین میں اس حد تک شدت اختیار کرتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کاذب کو کافر اور دائمی جہنمی گردانتے ہیں۔

خوارج میں سے بعض غالی حائضہ عورت پر نماز پڑھنا فرض سمجھتے ہیں، چور کا ہاتھ بغل کے پاس سے کاٹتے ہیں اور امر بالمعروف چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسلامی قوانین کی اس حد تک خلاف ورزی کرتے ہیں کہ بھتیجی اور پوتے کے ساتھ نکاح جائز سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ یہ معاملہ فتح الباری کی جلد ۱۴ صفحہ ۱۶۷ میں بیان ہوا ہے۔

۲۔ دین کے بارے میں جہالت

دین سے ناواقفیت اور قرآن اور احادیث کا غلط فہم خوارج کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے خوارج کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ’’خوارج مسلمانوں پر ان آیات کا اطلاق کرتے ہیں جو کفار کے بارے میں نازل ہوئیں، وہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ان کے خون اور مال کو جائز سمجھتے ہیں، عورتوں سے ان کی عدت کے دوران نکاح کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک عورت آئے گی اور وہ اس سے اس حال میں شادی کر لیں گے کہ اس کا شوہر زندہ ہو گا۔ میں ان سے زیادہ قتل کیے جانے کا حقدار کسی اور کو نہیں سمجھتا۔‘‘

خوارج کی انوکھی جہالت کی ایک مثال یہ ہے کہ جب وہ جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ سے ملے تو خوارج نے پہلے ان سے بعض مسائل میں بحث کی اور پھر ان سے حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے بارے میں پوچھا۔ ان صحابی نے ان دونوں اصحاب کی تعریف کی۔ خوارج نے ان صحابی کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا، ان کی حاملہ بیوی کو بھی قتل کیا اور ان کی بیوی کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی شہید کر دیا۔اسی وقت وہاں سے ایک خنزیر گزرا، ایک خارجی نے اس خنزیر کو مار ڈالا، لیکن خنزیر کو مارنے کے بعد اسے یہ کام ناجائز معلوم ہوا، انہوں نے خنزیر کے قتل کی تحقیقات کیں اور اس کے مالک سے معافی مانگی کہ ہم نے تمہارا خنزیر مار ڈالا۔ یہ خوارج کی جہالت کی ایک مثال تھی کہ جو صحابہ کرام کی شہادت کے پیاسے تھے اور خنزیر کو قتل کرنا بہت بڑا جرم سمجھ رہے تھے۔

۳۔ بغاوت اور سرکشی

امیرِ وقت اور مسلمانوں کے خلاف خروج اور بغاوت خوارج کی وہ خصوصیات ہیں جو پوری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ امیر المؤمنین بنے، تو خوارج نے ان کی مخالفت کی اور ان کی اطاعت سے نکل گئے۔ مسلمان امیر کے خلاف بغاوت آج تک ان کی میراث ہے اور بغاوت ہی ہمیشہ ان کامنشا رہا ہے۔ ان کا مانناہے کہ مسلمان رہنما عدل اور ہدایت کے دائرے سے باہر ہے۔

۴۔ مسلمانوں کی تکفیر کرنا اور ان کے خون اور مال کو حلال سمجھنا

خوارج کے نزدیک نیک اور متقی شخص مؤمن ہے، اور جو متقی نہ ہو وہ کافر ہے اور جہنم میں دائمی عذاب کا مستحق ہے۔ خوارج میں بعض غالی تو مکروہ عمل کرنے والے کو بھی کافر کہتے ہیں۔

۵۔ رسول اللہ ﷺ سے خوارج کی مخالفت

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خوارج رسول اللہ ﷺ کی تصدیق صرف قرآن کریم سے کرتے ہیں، جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے، اور ان سنتوں میں اتباع نہیں کرتے جن کا (ان کے باطل گمان میں) قرآن کریم سے بظاہر اختلاف ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ ان کی رائے کے خلاف کوئی بات کہیں، تو یہ اس کی اتباع نہیں کرتے ، یہ اپنی رائے کا کسی نہ کسی طرح دفاع کرتے ہیں، یا حدیث رد کرتے ہیں، یا حدیث کے بارے میں تاویل کرتے ہیں، یا اس کی سند کے بارے میں شک کرتے ہیں، یا متن پر تنقید کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ اس سنت پر عمل نہیں کرتے جو رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ لائے تھے اور نہ ہی قرآن پاک پر عمل کرتے ہیں۔

۶۔ تنقید اور الزامات

خوارج کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ ائمہ کرام پر تنقید کرتے ہیں ، ان کے بارے میں بدگمانی کرتے ہیں اور ان پر غلط الزامات لگاتے ہیں۔ یہ کام انہیں اپنے باپ ذوالخوایصرہ سے وراثت میں ملا ہے۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ’’اے محمد! مالِ غنیمت کی تقسیم میں انصاف کرو! ‘‘اس نے خود کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ متقی سمجھا اور رسول اللہ ﷺ پر (نعوذ باللہ)ظلم و زیادتی کا الزام لگایا۔

۷۔ مسلمانوں کے ساتھ سخت اور کفّار کے ساتھ نرم

خوارج مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کی شہرت رکھتے ہیں، مسلمانوں کے خون اور مال کو اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بت پرستوں اور مشرکین سے کوئی عداوت نہیں رکھتے۔ اسلام کا بابرکت دین اپنے پیروکاروں کو مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور کفار کے ساتھ دشمنی کا حکم دیتا ہے، جیسا کہ سورہ فتح کی آیت ۲۹ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

’’محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحمدل ہیں۔‘‘

لیکن اس کے برعکس خوارج کی سیاہ تاریخ کفار کے ساتھ نرمی جبکہ مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور سختی سے بھری پڑی ہے۔

پیر آغا مرحوم کہا کرتے تھےکہ: ننگر ہار میں داعش کے خوارج کا یہ طریقہ تھا کہ اگر آج ایک عورت کا شوہر مارا گیا، تو اس کا اگلے دن دوسرا نکاح کر دیا جاتا۔

صوبہ زابل کے ایک رہائشی نے بتایا کہ جب ضلع ارغنداب میں داعشی خوارج نمودار ہوئے، تو بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے شہید کر دیے گئے کہ وہ نسوار کیوں لگاتے ہیں۔

ہم داعشی خوارج کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کسی کافر کی انگلی تک زخمی نہیں کی، جبکہ دوسری طرف انہوں نے مساجد کو مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا۔