خراسانی خوارج نے پاکستانی سلفی علماء کے خلاف بھی تکفیر بازی کی مہم شروع کی۔

#image_title

خراسانی خوارج نے پاکستانی سلفی علماء کے خلاف بھی تکفیر بازی کی مہم شروع کی۔

عبد اللہ نظام

خوارج نے اپنے مطبوعاتی کارندوں کو پاکستانی سلفی علماء کے خلاف ذاتی طور پر مہم چلانے، ان کی توہین کرنے اور انہیں مرتد، منافق اور طاغوت کی کٹھ پتلی کہنے کا کام سپرد کیا ہے۔

 

یہ گستاخانہ مقالے اور تحریرات داعش کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کیے جاتے ہیں اور عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ داعش کے لوگوں کی رائے ہے۔ تاہم ذرائع نے المرصاد کو بتایا کہ یہ نشریاتی مہم خراسانی خوارج کے اعلام ادارے کے تعاون سے شروع کی گئی ہے اور مستقبل میں اس حوالے سے دیگر پروگرام بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔

 

اس مہم کی پہلی ویڈیو گزشتہ مارچ میں پاکستان کے مشہور سلفی عالم دین امین اللہ پشاوری کے بارے میں شائع ہوئی تھی۔

 

اُس ویڈیو میں امین اللہ پشاوری کو جہاد اور خلافت کے بارے میں موقف بدلنے اور منافق بننے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، یہ ویڈیو خراسانی خوارج کی ایک غیر رسمی نشریاتی تنظیم حماة التوحید نے شائع کی تھی، امین اللہ پشاوری کے ان بیانات کو سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا جس میں انہوں نے خوارج کی نام نہاد خلافت کی مذمت کی تھی۔

 

پچھلی ویڈیو میں داعش کے ارکان نے امین اللہ پشاوری کو منافق کہا تھا لیکن نئی مہم میں ان کا لہجہ مزید سخت ہو گیا اور اپنی عادت کے مطابق انہوں نے پاکستان کے دیگر نامور سلفی علماء (جیسے عبدالعزیز نورستانی، ابو حسن سواتی ،عبدالحمید کامبٹ وغیرہ) کو بھی مرتد قرار دیا گیا تھا۔

 

خراسانی خوارج نے کئی عرصے سے افغانستان کے علماء کو بھی کافر قرار دیا تھا جنہوں نے ان کے نام نہاد خلافت کی مخالفت کی تھی، لیکن پاکستانی سلفی علماء کے خلاف ان کی حالیہ مہم ابھی شروع ہوئی ہے۔ افغان علماء کی تکفیر اور پاکستانی سلفی علماء کے ساتھ نرمی کی وجہ سے داعش کے بعض لیڈروں کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات ہیں۔

 

داعش کے وہ کارندے جو پاکستانی علماء کے ساتھ اختلاف رکھتے تھے وہ ہمیشہ اپنے قائدین پر تنقید کرتے رہے کہ وہ اپنے مخالف علماء کے حوالے سے دو رخہ پالیسی اپناتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے سلفی علماء کے خلاف تازہ ترین پروپیگنڈہ مہم خراسانی خارجیوں نے اپنے انتہا پسند تکفیریوں کو خوش کرنے اور مستقبل میں سلفی علماء کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کی ہے۔